انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 337

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۷ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو او باش آدمی یہاں آیا ہو ا ہوا اور وہ کوئی شرارت کر جائے ۔ لیکن ایک وہ زمانہ گزرا ہے کہ مسلمان عورتیں دُنیا کے گوشے گوشے میں جاتیں ، اکیلے اور تن تنہا جاتیں اور کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ ان کی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھ سکے اور اگر کبھی کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا تو وہ اُس کا ایسا خمیازہ بھگتا کہ نسلوں نسل تک اُس کی اولاد ناک رگڑتی چلی جاتی ۔ مسلمان اپنے ابتدائی دور میں ہی دنیا میں پھیل گئے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ابھی اسی نوے سال ہی گزرے تھے کہ وہ چین اور ملایا اور سیلون اور ہندوستان کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے ادھر وہ افریقہ کے مغربی ساحلوں تک چلے گئے تھے اور ان کی لہریں یورپ کے پہاڑوں سے ٹکرا رہی تھیں ۔ اس ابتدائی دور میں مسلمانوں کا ایک قافلہ جس کو سیلون کے بدھ بادشاہ نے خلیفہ وقت کے لئے کچھ تحائف بھی دیئے تھے سیلون سے روانہ ہوا اور اسے سندھ میں لوٹ لیا گیا ۔ سندھ میں اُن دنوں راجہ داہر کی حکومت تھی جب اس قافلہ کے لوٹے جانے کی خبر مشہور ہوئی تو گورنر عراق کا والی مکر ان کو حکم پہنچا کہ ہمارے پاس یہ خبر پہنچی ہے کہ مسلمانوں کا ایک قافلہ جو سیلون سے چلا تھا وہ سندھ میں ٹوٹا گیا ہے اور مسلمان مرد اور عورتیں قید ہیں تم اس واقعہ کی تحقیق کر کے ہمیں اطلاع دو۔ والی مکران نے راجہ داہر سے دریافت کیا تو اُس نے اِس واقعہ کا انکار کر دیا ۔ مسلمان چونکہ خود راست باز تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی سچ بولتے ہیں جب راجہ داہر نے انکار کر دیا تو انہوں نے بھی مان لیا کہ یہ بات سچ ہو گی ۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک اور قافلہ انہوں نے اسی طرح ٹوٹا اور ان میں سے بھی کچھ عورتیں انہوں نے قید کیں ۔ ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کسی طرح ایک مسلمان کو جو قید نہیں ہوا تھا یا قید ہونے کے بعد کسی طرح رہا ہو گیا تھا کہا کہ میرا پیغام مسلمان قوم کو پہنچا دو کہ ہم یہاں قید ہیں اور مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہم کو بچائے ۔ اُس وقت خلیفہ بنوامیہ افریقہ پر چڑھائی کی تجویزیں کر رہا تھا اور سپین فتح کرنے کی سکیم بن رہی تھی اور تمام علاقوں میں یہ احکام جاری ہو چکے تھے کہ جتنی فوج میسر آسکے وہ افریقہ کے لئے بھیجوا دی جائے ۔ اُس وقت وہ پیغامبر پہنچا اور اُس نے عراق کے گورنر کو جو حجاج نامی تھا اور جو سخت بد نام تھا یہ