انوارالعلوم (جلد 22) — Page 325
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲۵ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش کرو ایک دن مزاقاً بعض امراء نے مشورہ کیا کہ اس کی تھیلی اُٹھا لو چنانچہ وہ تھیلی اُٹھالی گئی ۔ اُٹھالو گئی۔ دوسرے دن جب وہ حجامت بنانے آیا تو اُس کا رنگ اُڑ اہو اتھا وہ بول نہیں سکتا تھا۔ کسی شخص نے اُس سے دریافت کیا بتاؤ میاں! آج شہر کا کیا حال ہے؟ اُس نے جواب دیا مانے کہ شہر کا کیا کہوں سارا شہر ھو کا مر رہا ہے۔ اُس امیر نے اپنے نوکر سے کہا تھیلی اٹھا لاؤ اور وہ تھیلی نائی کو دیکر کہنے لگا میاں ! تم تھیلی لے لو لیکن شہر کو ٹھو کا نہ مارو۔ یہ کتنی گندی ذہنیت ہے ایسا انسان یا تو سو پینگ SWEEPING) ریمارکس دے دیتا ہے اور یا پھر سب کو عرش پر بٹھا دیتا ہے۔ میرے ساتھ ہر روز یہی ہوتا ہے کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سارے لوگ ایسے ہیں میں کہتا ہوں کوئی مثال دو پھر وہ کہتے ہیں کہ سب تو ایسے نہیں ۔ جب میں پھر دُہراتا ہوں کہ کوئی مثال دو تو یہ تعداد اور کم ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ ایک آدمی رہ جاتا ہے غرض یہ طریق غلط ہے ۔ تم اپنی اصلاح کرو اور دوسروں کی بھی اصلاح کرو اور یہ نہ کہو کہ سب بُرے ہیں یا لوگ ہماری بات نہیں سنتے یہ بگاڑنے کا طریق ہے اصلاح کرنے کا نہیں ۔ اگر دس خدام ہیں اور وہ تمام کے تمام نماز میں شامل نہیں ہوتے تو ہو سکتا ہے کہ ان میں سے آٹھ کے پاس کوئی حقیقی معزوری ہو جس کی وجہ سے وہ مسجد میں نہیں آسکتے ۔ پس تمہیں اس طریق کو توڑنا چاہئے اور مرکز میں سچی رپورٹیں بجھوانی چاہیں ۔ تنظیم کے معنی ہی یہ ہیں کہ آپ لوگ مرکز سے وابستہ ہوں اگر آپ مرکز سے وابستہ نہیں تو کوئی تنظیم حقیقی تنظیم نہیں کہلا سکتی ۔ ( روزنامہ الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۶۲ء ) ل التوبة : ١١٩ مسلم کتاب البر والصلة باب النهي عن قول هلگ الناس میں یہ الفاظ ہیں : إِذَا قَالَ الرَّجُلُ - هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكَهُمْ “