انوارالعلوم (جلد 22) — Page 311
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۱ اپنے اندر سچائی، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو بادشاہت تو ایک جسمانی چیز ہے روحانی چیز نہیں ۔ خدا تعالیٰ نے مجھے روحانی مرتبہ دیا ہے وہ چھوڑ کر میں ایک جسمانی چیز کے پیچھے کیوں پڑوں ؟ اگر حضرت عبداللہ بن عمر خلافت کی بجائے اس چیز کو دیکھتے کہ مسلمانوں کی گردنیں کس ہاتھ میں جا رہی ہیں تو وہ اس بارہ میں ایثار نہ دکھاتے اور یہ امر مسلمانوں کے لئے یقیناً خوش قسمتی کا موجب ہوتا ۔ دنیا میں یزید کو سب کچھ کہا گیا ہے اور شیعوں نے تو اسے اتنی گالیاں دی ہیں کہ زمین اور آسمان ہلا دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑی گالی وہ تھی جو خود اس کے بیٹے سے اسے ملی اور وہ اس کا وہ فعل تھا جو اس نے یزید کی وفات کے بعد خلافت قبول نہ کرنے کے بارہ میں کیا۔ میرے نزدیک اس کا خلافت کو قبول نہ کرنا ایک بہترین گواہی تھی اس امر پر کہ معاویہ کا یہ فیصلہ غلط تھا کہ یزید بادشاہت کا مستحق ہے۔ میں حیران ہوں کہ مسلمانوں نے یزید کے بیٹے کی وہ قدر کیوں نہیں کی جس کا وہ حقدار تھا۔ وہ اسلامی شعار کو قائم رکھنے والی اہم ہستیوں میں سے ایک تھا۔ یزید کے بعد شاہی خاندان کے افراد نے اُسے بادشاہ بنا دیا اور اعلان کر دیا کہ یزید کے بعد اُس کا بیٹا خلیفہ ہو گا ۔ یہ لوگ اگر چہ بادشاہ ہوتے تھے لیکن کہلاتے خلیفہ ہی تھے ۔ بادشاہ بنانے کے بعد وہ اُسے ایک خاص جگہ لے گئے تا وہ اپنی خلافت کا اعلان کرے اور یہ اعلان کر دیا کہ تمام رؤسا اور خاندان کے لوگ اُس کی بیعت کریں ۔ وہ اُسے پبلک میں لے آئے اور اُسے اعلان کرنے کے لئے کہا۔ اُس نے ممبر پر کھڑے ہو کر جو اعلان جو اعلان کیا وہ یہ تھا کہ اے ھا کہ اے لوگو ! خدا تعالیٰ نے بادشاہت کا حق تمہیں دیا ہے اور اسلام نے بھی تمہیں اختیار دیا ہے کہ جسے چاہو بادشاہ بنا لو لیکن اِن لوگوں نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ رسی میرے گلے ڈال دی ہے اور جن کا حق تھا اُنہیں پوچھا ہی نہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس مجلس میں وہ لوگ موجود ہیں جو اپنی ذات میں مجھ سے اچھے ہیں، جن کے باپ میرے باپ سے اچھے ہیں اور جن کے دادے میرے دادا سے اچھے ہیں اُن کی موجودگی میں میرا بادشاہت کو قبول کرنا مشکل امر ہے اس لئے میں یہ رسی گلے سے اُتار کر پھینکتا ہوں ۔ تمہارا حق ہے جن کو چاہو بادشاہ بنا لو۔ سے اُس کی ماں کو جب یہ اطلاع ملی تو اس نے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ کم بخت ! آج تو نے اپنے