انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 280

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۸۰ سیر روحانی (۵) ہم نے اپنے دل کی بات کہہ دی تو نہ معلوم بادشاہ اس کو مانے یا نہ مانے ۔ مگر اس الہی دربار کی عجیب شان ہے اس دربار عام کے بارہ میں فرماتا ہے يشكله من في السمواتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ ۲۴ فرماتا ہے آسمان کا رہنے والا ہو یا زمین کا رہنے والا ہر ایک اپنی ضرورت خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ کیا آدمی کی ہر ضرورت پوری ہو جاتی ہے؟ اس کے متعلق فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانِ نہ صرف ہر مانگنے والے کی ضرورت کو پور کرتا ہے بلکہ ہر روز وہ نئی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ پہلے بندہ کہتا ہے خدایا! مجھے فلاں چیز چاہئے اور خدا تعالیٰ اسے وہ چیز دے دیتا ہے ۔ پھر وہ اور چیز مانگتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے وہ چیز بھی دے دیتا ہے اس طرح وہ مانگتا چلا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے دیتا چلا جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی ہر روز ایک آخر ما نگتے مانگتے اسے خیال آتا ہے کہ اب میں کیا مانگوں؟ میں نے تو اس سے بہت کچھ مانگ لیا ہے نئی شان سے جلوہ گری اللہ تعالی اس کی طرف دیکھتا ہے اور فرماتا ہے آج تو ہم ایک نئی شان میں تمہارے سامنے جلوہ گر ہوئے ہیں پچھلی ضرورتوں کا خیال جانے دو اب ہم سے اور مانگو ہم تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔ پہلے تم نے اُس شان کو دیکھا تھا جو ں ۔ سلے تم نے اُس نشان کو دیکھا تھا جو گزر چکی اب تم ہماری اس نئی شان کا مشاہدہ کرو اور جو کچھ مانگنا چاہتے ہو مجھے سے مانگو۔ غرض یہ در بار عام وہ ہے جس میں سب مانگتے ہیں ، ہر روز مانگتے ہیں اور ہر روز انہیں نئے انعام ملتے ہیں دُنیوی اور اُخروی ترقیات کا ایک تسلسل جاری ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ علوم قرآنیہ کے انکشاف کا کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں دنیا کے دروازہ بھی بند نہیں ہو سکتا سامنے آتا ہے اور ہر وہ وہ یا احسان دنیا ر کرنے روز کے لئے تیار ہوتا ہے مگر آج وہی مسلمان جن کی کتاب میں یہ تعلیم موجود تھی جو دنیا کی کسی