انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 252

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵۲ سیر روحانی (۵) کامیابی توپوں کے ساتھ نہیں افسوس کہ آج کے مسلمان توپ و تفنگ کی طرف دیکھ رہے ہیں بجائے اس کے بلکہ قرآن کے ساتھ وابستہ ہے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کریں، اخلاق فاضلہ پر زور دیں ، دعا ، نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں وہ یورپ کی طرف آنکھ اُٹھائے اس اُمید میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب یہ لوگ انہیں تو ہیں اور تلواریں دیتے ہیں جن کے زور سے وہ دنیا کو فتح کریں ۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف نہیں دیکھتے وہ کافر کی توپ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں حالانکہ کامیابی توپوں کے ساتھ نہیں بلکہ اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کے ساتھ وابستہ ہے۔ گفر کی مجموعی طاقت کے (۶) اب میں یہ بتاتا ہوں کہ طاقت مخالفانہ کے بارہ میں اس نے کیا حکم دیا ہے؟ طاقت مخالفانہ متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور انفرادی مخالفت یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مخالفوں اور باغیوں کے متعلق اُس نے جو حکم دیا ہے اس کا ذکر او پر ہو چکا ہے اب کفر کی مجموعی طاقت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ فرمایا ہے اُس کا ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ٢٢ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ قرآن آ گیا اب گھر اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا ۔ یہ کتنا عظیم الشان دعوی ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ کیا دنیا کی کوئی طاقت ایسی مثال پیش کر سکتی ہے؟ امریکہ اور انگلستان نے سائنس میں کتنی عظیم الشان ترقی کر لی ہے مگر کیا کوئی امریکن سائنسدان یا انگلستان کا مقنن یہ کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے ایسا مکمل اور جامع قانون تیار کر لیا ہے کہ ساری حکومتیں اس کی اتباع پر مجبور ہونگی ۔ باوجود ایک بے مثال ترقی کر لینے کے امریکہ اور انگلستان ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے ، لیکن قرآن کریم تمام دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرتا ہے کہ میرا قانون ایسا مکمل اور اتنا جامع ہے کہ قیامت تک یہ اپنی موجودہ شکل میں ہی قائم رہیگا ۔ یہ ایسا دعویٰ ہے کہ اس کی مثال دنیا کی کسی حکومت میں نہیں مل سکتی قرآن کریم کہتا ہے جاءَ الْحَقُّ