انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 230

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۰ سیر روحانی (۵) اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اسلام کو دنیا کے تمام دوسرے ادیان پر غالب کروں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا جھنڈا دنیا میں گاڑ دوں ۔ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آنے والے موعود کی خبر دیتے ہوئے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو اس کی قوم میں سے ایک فارسی الاصل شخص اُٹھے گا جو ایمان کو پھر لوگوں کے قلوب میں زندہ کر دیگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سے پوری ہوئی سال دو بار او کی پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی دی اُس وقت وہ قوم جس میں سے اس اسلام کے دوبارہ عروج کی یہ بشارت عظیم الشان انسان نے کھڑا ہونا تھا کا فر تھی ، وہ بے دین اور لا مذہب تھی وہ جانتی تک نہ تھی کہ اسلام کس چیز کا نام ہے مگر صدیوں بعد چین اور تبت اور ترکستان کے پہاڑوں سے یہ قوم اُٹھتی ہے اور دیوانہ وار تمام پہاڑوں اور دریاؤں اور صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے اسلامی حکومت کو تباہ کر دیتی ہے ۔ بغداد جو اسلام کا ایک عظیم الشان مرکز تھا اُس پر یہ قوم حملہ آور ہوتی ہے اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کو نہایت بیدردی کے ساتھ قتل کر دیتی ہے۔ مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ وہی ہلا کو جس نے بغداد میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا اس کی نسل میں سے سے ایک مغل شہزادہ مسلمان ہو ہو جاتا ہے اور اور وہی قوم جس کی کی تلوار نے مسلمانوں کو مٹایا تھا خود اسلام کی تلوار کا شکار بن کر رہ جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رہ اور پھر اللہ پیشگوئیوں کے عین مطابق تیرہ سو سال بعد ایک مغل اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے اور میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی حکومت دنیا میں قائم کر کے رہونگا ۔ یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے اور کتنے عظیم الشان طریق پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کا ایفاء کیا جو اُس نے اپنے دربار میں کیا تھا ۔ کیا دنیا کا کوئی دیوان عام اس کی مثال پیش کر سکتا ہے؟ در بار عام کا ایک اور مقصد در بار عام کا ایک مقصد جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے بادشاہ کے خاص قوانین کا اعلان کرنا ہوتا ہے ۔