انوارالعلوم (جلد 22) — Page 227
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۷ سیر روحانی (۵) کا زمانہ بظاہر دو ہزار سال کا نظر آتا ہے لیکن وہاں تیرہ سو سال کے بعد جو نبی آیا اُس نے آتے ہی یہ کہہ دیا کہ اب موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ختم ہونے والی ہے اور وہ نبی دنیا میں ظاہر ہونے والا ہے جس کے متعلق تمام انبیاء اپنے اپنے زمانہ میں پیشگویاں کرتے چلے آئے ہیں ۔ گو یا مسیح علیہ السلام نے آمد کے ساتھ سلسلہ موسویہ کے امتداد کی خبر نہیں دی بلکہ ایک نئے دور کے آغاز کی خبر دیدی اور بتایا کہ پہلا سلسلہ ختم ہونے والا ہے ۔ مسلمانوں کے ہزار سالہ غرض ہزار سال وہ میعاد ہوتی ہے جس میں کسی قوم کو یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ دور تنزل کی قرآن کریم میں خبر اب پرانی نبوت ختم ہو گئی ہے اور نئی نبوت کا دور شروع ہونے والا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے ۔ یہاں دن سے مراد ہزار سالہ زمانہ ہے چنانچہ قرآن کریم خود اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے ۔ يُدَيرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةَ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ] فرمایا ہم اس دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرینگے اور آسمان سے زمین پر اپنے انوار کی بارش برسائیں گے مگر پھر آہستہ آہستہ وہ نظام کمزور ہوتا چلا جائے گا اور دنیا یہ سمجھے گی کہ مگر ہے نظام مروره محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت اب ختم ہو گئی ہے۔ دنیا یہ سمجھے گی کہ محمد رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اب ختم ہو گئی ہے اور یہ دور تنزل تمہاری گنتی کے لحاظ سے ایک ہزار سال تک چلتا چلا جائے گا ۔ سے بہائیوں کا ایک غلط استدلال بہائی لوگ قرآن کریم کی اس آیت سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر کہتے ہیں کہ گویا ہزار سال کے بعد نَعُوذُ بِالله شریعتِ اسلام منسوخ ہو جائے گی حالانکہ شریعت اسلام تو تب منسوخ ہو سکتی تھی جب کہ یکدم قرآن خراب ہو جاتا اور وہ دنیا کے لئے نا قابلِ عمل ہو جاتا ،لیکن اس آیت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یکدم قرآن خراب ہو جائے گا بلکہ اس میں یہ بتایا گیا کہ آہستہ آہستہ ایک ہزار سال میں ایمان او پر چڑھ جائے گا ۔ پس اس کے معنے سوائے اس