انوارالعلوم (جلد 22) — Page xxv
۲۰ و صلى الله میں آنحضور ﷺ کی سیرت کے بہت سے اس سلسلہ میں آ صلى الله پہلو بیان فرمائے اور آنحضور علی کے اخلاق حسنہ کو اپنا کر مقام محمود پر پہنچنے کا ذکر فرمایا اور اس مبارک مقام محمود کی موجودہ زمانہ کے حوالہ سے تجلیات کا بھی ذکر فرمایا۔ (۲۲) اتحاد المسلمین حضرت مصلح موعود آغاز ۱۹۵۲ء میں ناصر آباد سندھ تشریف لے گئے ۔ واپسی پر حیدر آباد مقامی مقامی جماعت کی درخواست پر پر ۲۵ ۲۵ مارچ کو کو ”تھیا سوفیکل ہال میں میں اتحاد المسلمین کے عنوان پر ایمان افروز تقریر فرمائی ۔ اس جلسہ میں احمدی احباب کے علاوه غیر از جماعت دوستوں نے بھی شرکت فرمائی اور دلچسپی کے ساتھ اس خطاب کو سُنا ۔ حضور نے اپنے خطاب کے آغاز پر فرمایا کہ میرے اس موضوع کے دو معانی لئے جا سکتے ہیں ۔ اول ۔ مسلمانوں کا اتحاد رکن بنیادوں پر قائم ہے؟ اس کی کیفیات کیا ہیں؟ اور دوئم ۔ مسلمانوں میں اتحاد کی کمی ہے ہم کون سے ذرائع اختیار کر کے اسے دور کر سکتے ہیں ۔ اور یہی دوسرا امر میری تقریر کا موضوع ہے کیونکہ مسلمانوں میں اتحاد کی کمی ہے اور اس عدم اتحاد اتحاد کی کی وجہ وجہ سے مسلمان مسلمان بکھرے رے پڑے ہیں اور یورپ سے امداد امداد لینے پر مجبور ہیں۔ اور اسلام بھی انفرادیت کو چھوڑ کر اجتماعیت پر زور دیتا ہے۔ قوموں میں اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ اختلافات اُمت میں رحمت کا بھی باعث ہیں مگر بعض امور تو بہر حال ایسے ہونے چاہئیں جن میں اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اجتماعیت کے حوالہ سے فیصلہ کرنا ہے ۔ مثلاً اسلام میں بعض امور ایسے ہیں جو دوسرے مذاہب میں نہیں ۔ اس حوالے سے مسلمانوں میں اتحاد ضروری ہے ۔ جیسے کلمہ طیبہ ہے ۔ ایک قبلہ ہے۔ نماز با جماعت ہے ۔ حج ہے۔ زکوۃ اور قضاء کا نظام ہے ان تمام امور میں اجتماعیت ہے اور اجتماعیت کی وجہ سے اتحاد ہے ۔ اسلام ایک اجتماعی مذہب ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرمایا ہے وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (الانفال: ۴۷)