انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 220

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۰ سیر روحانی (۵) آپ کی باتیں سنوں گا اور چونکہ میں ہر وقت وہیں بیٹھا رہتا تھا ، اسلئے بعض دفعہ سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور میں بیہوش ہو کر گر جاتا تھا ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ مجھے مرگی ہو گئی ہے اور عربوں میں رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو اس کے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا علاج ہے ۔ انہوں نے کہا اِدھر میں فاقہ سے مر رہا ہوتا تھا اور اُدھر میرے سر پر جوتیاں پڑنے لگ جاتیں حالانکہ اُس وقت مجھے اندر سے ہوش ہوتا تھا مگر میری زبان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی تھی کہ میں انہیں منع کر سکوں پس یا تو میرا وہ حال تھا اور یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا یہ نتیجہ ہے کہ اب میں اُس رومال میں جسے بادشاہ اپنی شان دکھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا تھوک رہا ہوں ۔ تو یہ چیزیں ملتی ہیں اور اسلام بھی ہمیں وہ چیزیں دیتا ہے جو دنیا کے پیچھے چلنے سے حاصل ہوتی ہیں مگر اسلام زیادہ شاندار طور پر یہ چیزیں دیتا ہے اور وہ لوگ ذلّت کے طور پر ان چیزوں کو حاصل کرتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ تم اپنے باپ کے پاس جاؤ مگر اس لئے کہ تمہیں حلوہ کھانے کو مل جائے ، ماں کے پاس جاؤ مگر اس لئے کہ تمہیں پر اٹھے کھانے کو ملیں ۔ جب ہم اس نیت اور اس ارادہ سے جاتے ہیں تو گو یہ چیزیں ہمیں مل جاتی ہیں مگر ہم ذلیل اور کمینے بھی قرار پاتے ہیں ۔ اسلام کہتا ہے تم ماں اور ۔ رار ہیں۔ کے پاس جاؤ مگر ماں کے پیار کے لئے ، دوست کے پاس جاؤ مگر دوست کی محبت کے کے۔ لئے ۔ حلوہ تمہیں پھر بھی ملے گا ، پراٹھے تمہیں پھر بھی ملیں گے، پلاؤ پھر بھی تمہیں ملے گا مگر تم اٹھے تمہیں پھر بھی میں کیے جاؤ پھر بھی تمہیں شریف اور با اخلاق کہلاؤ گے ۔ یہ فرق ہے جو اسلامی تعلیم پر عمل کرنے اور دُنیوی طریقوں کو اختیار کرنے میں ہے اور اسی کی طرف میرا آج کا مضمون اشارہ کرتا ہے ۔ اسلامی نظامِ حکومت کا ایک اجمالی نقشہ میرا یہ مضمون در حقیقت اسلامی طریق حکومت کی ایک تصویر ہے یا اسلام دنیا میں جو اصلاح پیدا کرنا چاہتا ہے اُس کا ایک اجمالی نقشہ اس مضمون میں کھینچا گیا ہے۔ آجکل پاکستان میں اس بات پر بڑا زور دیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت قائم ہونا چاہئے مگر عملی طور پر وہ اس کو قائم کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اسلام جو کچھ بتا تا ہے اُس