انوارالعلوم (جلد 22) — Page 190
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۹۰ متفرق امور دی گئی گورداسپور کی مسلم لیگ کو اجازت کیوں نہ دی گئی ، اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم لیگ گورداسپور بہر حال مسلم لیگ کہلاتی تھی اور کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ وہ مرکزی مسلم لیگ کے ساتھ متفق نہیں ہو گی لیکن احراریوں نے یہ پروپیگنڈا کیا ہوا تھا کہ احمدی مسلمان نہیں اور شبہ تھا کہ ہندو سکھ ریڈ کلف کو یہ نہ کہہ دیں کہ مسلمان ، احمد یوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اس لئے ان کی آبادی کو نکال کر دیکھا جائے کہ آیا گورداسپور میں مسلم اکثریت ہے یا غیر مسلم اکثریت ۔ ضلع گورداسپور میں ساٹھ ہزار احمدی تھے اور انہیں ملا کر مسلمان ۵۱۰۱۴۶ تھے جس کے یہ معنی تھے کہ اگر احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کر دیا جاتا تو مسلمان ۶ ۴۵۔۶۹ رہ جاتے اور غیر مسلم زیادہ ہو جاتے تھے ۔ پس احراریوں نے جو یہ شرارت کی کہ احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ سمجھا جائے اس کی وجہ سے مسلم لیگ نے فیصلہ کیا کہ ہم علیحدہ میمورنڈم پیش کریں ورنہ ہندو کہہ دیں گے کہ یہ مسلمان نہیں اور ثبوت میں احراریوں کا فتوی پیش کر دیں گے ۔ گویا احمدی اس لئے الگ پیش نہیں ہوئے کہ وہ اپنے آپ کو الگ سمجھتے تھے بلکہ ان کے الگ پیش ہونے کی ضرورت اس لئے سمجھی گئی کہ احراریوں نے یہ اعلان کیا ہوا تھا کہ احمدی مسلمان نہیں اگر ان سے علیحدہ پاکستان کی حمایت میں میمورنڈم پیش نہ کرایا جاتا تو ضلع گورداسپور میں مسلمان بڑی نمایاں اقلیت ما ہو جاتے تھے۔ بعد میں سر تیجا سنگھ کی جرح نے ثابت کر دیا کہ احرار اور سکھوں اور ہندوؤں کی سکیم کا کس طرح احمد یہ میمورنڈم نے خاتمہ کر دیا۔ سر تیجا سنگھ نے احمدی میمورنڈم کے پیش ہونے پرسٹ پٹا کر کہا کہ احمد یہ موومنٹ کا اسلام میں موقف کیا ہے یعنی آپ لوگ تو مسلمانوں میں ہیں ہی نہیں آپ ان کی طرف سے کس طرح بول رہے ہیں ؟ شیخ بشیر احمد صاحب نے جو احمدیوں کی طرف سے میمورنڈم پیش کر رہے تھے جواب دیا کہ ہما را دعوی ہے کہ ہم اوّل سے آخر تک مسلمان ہیں ہم اسلام کا ایک حصہ ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ کہیں احمدی مسلمان نہیں انہیں نکال کر معلوم کرو کہ آیا ضلع گورداسپور میں اقلیت میں ہیں یا اکثریت میں؟ لیگ اسے بھانپ گئی اور اس نے پاکستان کی حمایت میں احمدیوں سے علیحدہ محضر پیش کروا دیا۔ 66