انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 186

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۶ متفرق امور کون کم بخت نام لیتا ہے وہ تو یوں ہی پاس سے گزرے تھے اور ان کا نام آگیا۔ اس کے بعد آزاد نے مندرجہ ذیل مضمون لکھا جو میں سارا سنا تا ہوں ۔ پہلے میں نے تھوڑا سا سنایا تھا۔ حکومت نے اس بیان سے عوام کو جہلِ مرکب میں ڈالنے اور غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ انتہائی مذموم ہے ( اس لئے کہ مولوی صاحبان کے جھوٹ کو ظاہر کیا گیا ہے اور ایسا کرنا سخت غلطی ہے ) اس بیان کا مقصد محض قادیانی جماعت پر عائد شده الزامات کو سر ظفر اللہ پر منطبق کر کے عوام کے ذہنوں سے اُس اثر اور دلوں سے اُن تأثرات کو دور کرنا ہے جو کہ مرزائی جماعت کے متعلق اُن کے دلوں میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔ برسبیل تذکرہ تقریر کی روانی اور خطابت کے جوش میں سر ظفر اللہ کا نام بھی آتا رہا لیکن اصل مبحث قادیانی جماعت تھی نہ کہ سر ظفر اللہ کی ذات (حالانکہ دیکھ لو اس میں سارا الزام چوہدری ظفر اللہ خاں پر ہی لگایا گیا ہے جماعت کا تو یہاں نام ہی نہیں ) پھر لکھا ہے: ہمارا الزام سر ظفر اللہ کی ذات پر نہیں بلکہ قادیانی جماعت پر ہے ( گویا جہاں ہم نے ظفر اللہ کہا ہے وہاں قادیانی جماعت سمجھو ) وہ جماعت کہ سر ظفر اللہ جس کا نفس ناطقہ ہے (یعنی ہم نے خلاصہ جماعت احمد یہ نہیں لکھا ظفر اللہ لکھ دیا ہے ) اور وہ الزام یہ نہیں کہ گورداسپور کیوں گیا ( یہاں گورداسپور کا سوال ہی نہیں ) بلکہ وہ الزام یہ ہے کہ جب مسلم لیگ تمام مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی تو مرزائیوں نے مسلم لیگ کے نمائندے سے الگ اپنا وکیل کیوں پیش کیا اور جب انتخابات کے ذریعہ یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ حق نمائندگی صرف