انوارالعلوم (جلد 22) — Page 182
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۲ متفرق امور خاصی دلچسپی ہے اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص نے کشمیر کے معاملہ میں مخالف رویہ اختیار کیا ہے تو لوگ اس کے خلاف بھٹک اُٹھیں گے اسی وجہ سے ہماری مخالفت کی جاتی ہے اور یہ سب کام کرنے کے بعد بھی یہ لوگ دیانتدار کہلاتے ہیں۔ ہمارے جلسہ پر سینکڑوں غیر احمدی احباب بھی آتے ہیں میں اُنہیں کہوں گا کہ اس قدر افتراء کرنے والے مولوی اگر حکومت میں برسر اقتدار آگئے تو تم دنیا کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ اتنے بے ایمان لوگ اگر برسراق تمہارے لیڈر بن گئے تو تمہاری خیر نہیں ۔ اسی طرح سے احرار نے عوام عوام کو بھڑکانے کیلئے یہ جھوٹا الزام تراشا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے باؤنڈری کمیشن کے موقع پر ملک سے غداری کی۔ چنانچہ آزادور دسمبر ۱۹۴۹ ء لکھتا ہے : ”اگلے دن سکھوں نے اپنا کیس پیش کیا کہ ننکانہ ہماری زیارت گاہ ہے اُسے گھلا شہر قرار دیا جائے ۔ ہمارے ظفر اللہ صاحب بھی آن موجود ہوئے کہ آج میں پھر پیش ہونا چاہتا ہوں مجھے بھی اجازت دی جائے ۔ آج میں نے مسلمانوں کا کیس پیش نہیں کرنا بلکہ جماعت احمد یہ کا کیس سکھوں کے مقابلہ میں پیش کرنا ہے تا کہ قادیان بھی گھلا شہر قرار دیا جائے ۔ ستیلو اڈ نے اعتراض کیا کہ اس نام کی کوئی اقلیت ملک میں موجود نہیں ۔ ظفر اللہ نے کہا ہم اقلیت ہیں ہم تمام مسلمانوں سے علیحدہ ہیں ۔ یہ آزاد اخبار کا بیان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شریعت کے ٹھیکیدار سمجھتے ہیں ۔ ختم نبوت کے محافظ کہلاتے ہیں جن کا لیڈر یہ کہا کرتا ہے کہ میں آل رسول ہوں اس جھوٹ کے بعد انہیں پتہ لگا کہ احمدیوں کی طرف سے میمورنڈم چو ہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے پیش ہی نہیں کیا بلکہ شیخ بشیر احمد صاحب نے پیش کیا تھا۔ اس پر سول اینڈ ملٹری گزٹ میں انہوں نے یہ نوٹ شائع کر دیا کہ : - وو " شیخ بشیر احمد نے جو لاہور کی جماعت احمدیہ کے امیر ہیں