انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 160

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۰ متفرق امور ہو جائے گی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہم کتب کی اشاعت کا انتظام بھی ہو گیا ہے ۔ ہمارا سارا سٹاک قادیان رہ گیا تھا۔ پہلے تو قادیان والے کتابیں بھجواتے رہے لیکن اب وہ نہیں بھیجتے وہ کہتے ہیں ہمارے پاس تو پریس نہیں کہ دوبارہ شائع کر لیں ۔ آپ کے پاس تو پریس ہے اس لئے یہ کتابیں ہمارے پاس ہی رہنے دیں ۔ سو اب یہاں اہم کتب کی اشاعت کا انتظام ہو گیا ہے ۔ حقیقۃ الوحی چھپ گئی ہے ۔ ابھی نظارت تالیف و تصنیف نے میرے ہاتھ میں ایک کاپی دی ہے۔ ہلکے کا غذ والی کتاب کی قیمت ۶ روپے اور اعلیٰ کاغذ والی کتاب کی قیمت ۸ روپے ہے ۔ ابھی اور کتابیں بھی شائع ہو رہی ہیں اور اگلے سال سے انشاء اللہ برابر چھنی شروع ہو جائیں گی اور کتب کا ذخیرہ یہاں قائم ہو جائے گا ۔ ایک بات میں اور کہنا چاہتا ہوں ۔ گزشتہ خطبات جمعہ میں بھی میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور اتنی توجہ دلائی ہے کہ بعض دُشمنانِ احمدیت نے مجھے لکھا ۔ دیکھا اب لگا ہے سلسلہ ختم ہو نے لیکن یہ ان کی حماقت ہے ۔ آخر جماعتوں پر کوئی وقت ایسا بھی آیا کرتا ہے جب ان میں جوش پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو جنگ حنین کے موقع پر اسلامی لشکر پیچھے ہٹ گیا اور رسول کریم کو ان مسلمانوں میں جوش پیدا کرنے کے لئے کہنا پڑا کہ اے انصار ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔ کے یہ فقرہ مخفی طور پر مہاجرین پر ایک چوٹ تھی چنانچہ اُس نے ایک طرف تو انصار کے اندر ایک جوش پیدا کر دیا کہ اب ہمیں بلایا جاتا ہے مہاجرین کو نہیں بلایا جاتا اور دوسری طرف مہاجرین یہ سن کر کٹ گئے کہ ہمیں نہیں بلایا گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مہاجرین وانصار نے آگے بڑھ کر قربانی کا ایک بے مثال نمونہ دکھایا اور جنگ کا نقشہ پلٹ گیا۔ پس ایسی جماعتیں مرتی نہیں ہاں بعض اوقات وہ سو جاتی ہیں اور اُن کو بیدار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ میری اس تحریک سے پہلے دفتر اول کے دولاکھ ۷۵ ہزار کے وعدے تھے ان میں سے صرف ایک لاکھ چھتیس ہزار کی وصولی ہوئی تھی۔ نومبر کے شروع میں میں نے تحریک کی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کو ملا کر دو لاکھ چودہ ہزار پانچ سو چار کی وصولی ہو گئی ۔