انوارالعلوم (جلد 22) — Page 135
انوار العلوم جلد ۲۲ الله اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔۔ فرائض ادا کرو اور عام طور پر یہ کہا بھی جاتا تھا کہ عورت تو جوتی کی طرح ہے ایک پیر نکال دیا اور دوسرا لے لیا اور شاید ہوتی تو وہ اب بھی ہے مگر اب اپنے ہی مرد کے سر پر پڑنے لگ گئی ہے ۔ یورپ نے دنیا میں جو خیالات پھیلائے ہیں کچھ ان سے متاثر ہو کر اور کچھ علم اور عقل کی روشنی کی وجہ سے اب لوگ پرانے ظلموں کا جواب کسی قدر دلداری سے دینے لگے ہیں اور یہ دلداری اب تعلیم یافتہ لوگوں سے ہٹ کر نچلے طبقہ میں بھی آ رہی ہے۔ پہلے ہمارے ملک کا زمیندار عورت سے محبت کرنا جانتا ہی نہیں تھا وہ سمجھتا تھا کہ عورت کا اتنا ہی کام ہے کہ اُس کے لئے روٹی پکا وے مگر اب اس کے دل میں بھی اپنی بیوی سے محبت کا احساس پیدا ہو رہا ہے ۔ آج ہی میری بیوی نے ایک واقعہ سنایا کہ عورتوں کی بیرکوں کے پاس ایک مرد آیا اور اس نے سوراخ میں سے گڑ نکال کر اندر دیا اور کہا کہ یہ راجو کو دے دو ۔ انہوں نے کہا کہ کون را جو؟ مگر وہ یہی کہتا چلا گیا کہ راجو کو دے دو ۔ آخر بڑی مصیبت سے اُسے سمجھایا کہ یہاں تو بیسیوں راجو ہیں تم کسی را جو کو گڑ دینا چاہتے ہو؟ انہوں نے تو یہ واقعہ اس انداز سے سُنایا کہ دیکھیں وہ اپنی بیوی کو گڑ دینے آیا تھا جو ایک نہایت معمولی اور حقیر سی چیز تھی مگر میں اس واقعہ کو سُن کر اس خیال سے گھنٹوں حظ اُٹھاتا رہا کہ وہ نہایت ریفائنڈ اور اعلیٰ درجہ کا جذ بہ جو تعلیم یافتہ لوگوں میں پیدا ہو چکا تھا وہ اب نچلے طبقہ میں بھی اوہ پیدا ہو رہا ہے اور وہ بھی عورت کی قدرو منزلت کو سمجھنے لگا ہے ۔ مرد کے ہاتھ میں گڑ آیا تو اس نے سمجھا کہ بغیر را جو کے اس کے کھانے کا مزہ نہیں آئے گا ۔ یہ جذبہ جب اس طرح نیچے پھیلنا شروع ہوا تو تم سمجھ سکتی ہو کہ ملک کی کیا حالت ہو جائے گی اور عورت کتنا بلند مقام حاصل کرلے گی ۔ بہر حال ملک کے گوشہ گوشہ میں یا تو مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے اور یا اس رد عمل کے نتیجہ میں جو مسلمانوں نے قرآن کریم کی تعلیم کو بھلا کر اختیار کیا تھا عورت اب بھی ایک نمایاں حیثیت اختیار کر رہی ہے اور یا پھر یہ سمجھ لو کہ جب علم پھیلا اور جہالت دُور ہوئی تو لوگوں کو خود بخود شرم آئی کہ ہم نے عورت کو کیسی ذلت میں رکھا ہوا تھا حالانکہ وہ بھی ہماری طرح اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے بہر حال کسی نہ کسی وجہ سے