انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 119

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۱۱۹ ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے ( فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۵۰ء بر موقع افتتاح جلسہ سالانہ بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - میں اس وقت دعا کے ساتھ جلسہ کا افتتاح کرنے آیا ہوں لیکن افتتاح سے پہلے جیسا کہ یہ اصول چلا آیا ہے میں کچھ باتیں بھی کہا کرتا ہوں تا وہ جلسہ میں آنے والوں کے لئے ہدایت کا موجب بنیں اور تاکہ دعا کرتے وقت وہ دعا کرنے والوں کے لئے حمد ومعین ثابت ہوں ۔ سب سے پہلے تو میں ایک رقعہ کے متعلق جو کسی دوست نے بھجوایا ہے کچھ کہنا چاہتا 66 ہوں ۔ وہ رقعہ یہ ہے کہ تمام دوستوں کی خواہش ہے کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا “ کی اپیلیں جو سامنے لڑکائی ہوئی ہیں وہ ہٹائی جائیں کیونکہ اس صورت میں نصف کے قریب سامعین لیکچرار کو نہیں دیکھ سکتے ۔ میرے نزدیک یہ بات معقول ہے اسٹیج کے سامنے کوئی ایسی چیز نہیں لٹکانی چاہئے جو سامعین اور لیکچراروں کے درمیان روک بنے ۔جن لوگوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے اُنہوں نے میری ان ہدایتوں کو سننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کی جو میں نے دی تھیں ۔ چنانچہ آج صبح ہی جب مجھ سے پوچھا گیا کہ ہم اِس طرح سٹیج کے اردگر و يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَانا کی اپیلیں لڑکا نا چاہتے ہیں تو میں نے منع کیا اور کہا کہ یہاں اپیلیں نہ لٹکائی جائیں مگر جب میں آیا تو مجھے تعجب ہوا کہ میری ہدایت کے خلاف ان کو یہاں لڑکا یا گیا ہے۔ اس لئے میں ہدایت دیتا ہوں کہ جب میں دعا کے بعد یہاں سے جاؤں گا تو ان آویزوں کو فوراً یہاں سے ہٹا دیا جائے اور انہیں -