انوارالعلوم (جلد 22) — Page 110
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۱۰ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر مفید ہو گا اور دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ اسلام کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون قربانی کرتا ہے اور محض زبانی دعوؤں پر کون اکتفا کرتا ہے لیکن ہوتا کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ میرا چیلنج قبول کرتے ، ہمارے خلاف جلسے کرتے ہیں اور تقریروں میں یہ فتوے صادر کرتے ہیں کہ احمدیوں کی چائے شراب سے بھی بدتر ہے۔ شراب پی جا سکتی ہے لیکن ان کی چائے پینا جائز نہیں ۔ کیا ان فتوؤں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ اسلام کو اگر فائدہ پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کہ میرا مبلغ اگر دس مسلمان بناتا ہے تو یہ میں مسلمان بنائیں۔ میرا مبلغ اگر ایک روٹی کھا کر گزارہ کرتا ہے تو یہ آدھی روٹی کھائیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو کیا میری آنکھیں گھل نہ جائیں ۔ یہ کتنا بڑا نشان ہوگا تمہاری صداقت کا اور اس سے اسلام کو کتنا بڑا فائدہ پہنچے گا ۔ ہماری لڑائی بھی ختم ہو جائے گی اور مقابلہ بھی ہو جائے گا ۔ مثلاً یہ تو شاندار مقابلہ ہو گا کہ دریا کا بند ٹوٹ جائے تو کون دریا کا بند باندھتا ہے لیکن اگر ہم بند بنانے سے پہلے آپس میں لڑ پڑیں اور لوگ پانی کی رو میں آکر تباہ و برباد ہو جا ئیں تو کیا یہ خدمت خلق ہو گی ؟ غرض اگر یہ لوگ اپنے دعوؤں میں سچے ہیں تو یہ بھی تبلیغ کے لئے باہر نکل جائیں اور ہم بھی تبلیغ کے لئے باہر جاتے ہیں ۔ پھر جو فریق جیت جائے اُسے حق ہوگا کہ وہ دوسرے ۔ کو جھوٹا کہہ سکے اور لوگ بھی سمجھ لیں گے کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ اور اس سے اسلام کو بھی فائدہ پہنچ جائے گا لیکن گالیاں دینے اور اس قسم کے فتوے دینے میں کیا رکھا ہے۔ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پتھر نہیں پڑے تھے؟ ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان آئے اور اُنہوں نے ایک لیکچر دیا اور لوگوں کے سامنے یہ بات پیش کی کہ میاں محمود احمد بھی کلکتہ جائیں اور میں بھی کلکتہ جاتا ہوں پھر دیکھیں گے کہ کس پر پتھر پڑتے ہیں اور کس پر پھول برستے ہیں بلکہ اس چیز کا پتہ امرتسر ا کے اسٹیشن پر ہی لگ جائے گا ۔ لوگ اس بات کو سُن کر نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگے ۔ ۔ اُن کی اس بات کا جواب میں نے اُسی دن عصر کے وقت دیا کہ مولوی صاحب نے خود ہی