انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 96

انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۶ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر جو کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے ۔ اگر کوئی کسی کو کافر کہتا ہے اور وہ اسے کافر کہہ دیتا ہے تو یہ کوئی گالی نہیں ۔ اسلام خود کہتا ہے اگر کوئی دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے تو وہ خود کافر ہے ۔ اب یا تو یہ حدیث کاٹ دو اور یا ہماری بات مانو۔ ہم کوئی نیا فتویٰ نہیں دیتے آج سے چودہ سو سال قبل سے یہ باتیں کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں ۔ ہم تو آج پیدا ہوئے ۔ ہم امام مسلم کے ساتھ تو نہیں بیٹھے تھے ۔ ہم امام بخاری اور کے ساتھ تو نہیں بیٹھے تھے ۔ ہم ابو داؤد اور ترمذی کے ساتھ تو نہیں بیٹھے تھے ہم نسائی ابن ماجہ کے پاس تو نہیں بیٹھے تھے لیکن ان بزرگوں نے اپنی اپنی کتابوں میں یہ باتیں لکھی ہیں اور وہ اب تک موجود ہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں یہ جھوٹا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اسے جھوٹا کس طرح کہہ سکتے ہو؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں جو پیش گوئیاں اس کے متعلق پائی جاتی ہیں اور وہ اس کے حق میں پوری ہوگئی ہیں کیا وہ پیشگوئیاں اس نے موسیٰ علیہ السلام کو لکھوا دی تھیں؟ ۱۳ اگر آج سے کئی سو سال قبل کی لکھی ہوئی باتیں اس شخص کے حق میں پوری ہو جاتی ہیں تو یہ شخص یقیناً سچا ہے ۔ اگر یہ جھوٹا ہوتا تو خدا تعالیٰ اتنے سو سال قبل کہی ہوئی باتیں اس کی ذات میں کیوں پوری کرتا ۔ غرض جو بات مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کے اعتراضات کے جواب میں کہتے ہیں وہی بات ہم کہتے ہیں ۔ مسلم اور بخاری میں یہ باتیں لکھی ہیں ۔ ہم تو اُس وقت موجود نہیں تھے کہ ہم نے خود یہ باتیں لکھوا دیں ۔ اگر تم کہو کہ میں مسلم اور بخاری کے وقت میں موجود تھا تو تمہیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ میں فرشتہ ہوں اور اگر میں فرشتہ ہوں تو تم فرشتے کی کیوں مخالفت کرتے ہو اور اگر میں انسان ہوں تو صاف بات ہے کہ یہ باتیں میں نے مسلم اور بخاری کو نہیں لکھوائیں ۔ پھر اگر انہوں نے یہ سب باتیں خدا تعالیٰ کے رسول کی طرف منسوب کر کے لکھی ہیں تو اگر میں خدا اور اُس کے رسول کا دشمن تھا تو یہ باتیں میرے ساتھ کیسے پوری ہو گئیں ۔ آخر اس کی بھی تو کوئی دلیل ہونی چاہئے ۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آنے والا مسیح شادی کرے گا اور اس کے نتیجہ میں اس کی اولا د بھی ہوگی ۔ "