انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 42

انوار العلوم جلد ۲۱ آپ اس کی پرواہ نہیں کریں گے۔ ۴۲ تقریر جلسه سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء پس بڑے اور بلند کاموں کے لئے ان چیزوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب اتنا بڑا کام ہمارے سپرد ہوا ہے یعنی ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو تمام دنیا میں قائم کرنا ہے اور اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے تو پھر یہ سوال ہی کیا ہے کہ اس پر ہمارا روپیہ ضائع چلا جائے گا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ہر سال بھی ایک نیا مرکز بنا ئیں تو جماعت کے مخلص لوگ اس کی پرواہ نہیں کریں گے جب انہیں ایک مرکز سے نکال دیا جائے گا تو وہ آگے جا کر ایک اور نیا مرکز بنا لیں گے اور سمجھیں گے کہ جو خدا تعالیٰ نے انہیں دیا تھا وہ اس کے کاموں میں صرف ہو گیا اور اس سے بڑھ کر اور نعمت ہی کیا ہے کہ ہم خدا کا دیا ہوا رو پید اُسی کے کاموں پر خرچ کریں۔ - پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس عارضی مرکز کے بارہ میں غفلت میں نہ رہے ۔ زمین کی قیمتیں بڑھتی چلی جائیں گی ۔ قادیان میں ایسا ہی ہوا تھا یہاں تک کہ میں بیس ہزار روپیہ فی کنال تک قیمت پہنچ گئی تھی ۔ ہم نے خود انجمن کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ پر ایک ٹکڑہ زمین خریدا تھا اسی طرح جو اس جگہ میں برکتیں ہونگی ان سے بھی ان کو حصہ ملتا رہے گا ۔ درس و تدریس ہوگا نئی نئی تحریکوں میں جلد از جلد حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ پس جماعت کو اس بارہ میں سستی نہیں کرنی چاہئے ۔ جس خدا نے مکہ کو برکت دی ہے، جس خدا نے مدینہ کو برکت دی ہے، جس خدا نے قادیان کو برکت دی ہے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اُس کے خزانے میں ابھی بہت سی برکتیں باقی ہیں تم گھبراؤ نہیں خدا تعالیٰ اس جگہ کو بھی بابرکت بنا دے گا۔ تمہاری نیت یہی ہونی چاہئے کہ تم وہاں جا کر دین کی خدمت کرو ۔ جب تم وہ نیت کر لو گے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی ، جب تم وہ نیت کر لو گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی تھی تو تمہیں وہ برکتیں ملیں گی جو اُنہیں ملیں کیونکہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کی تکمیل کے لئے کھڑا ہو گا اُس کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہوگا ۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام خدا تعالیٰ کا کام تھا۔ اس کے بعد میں جماعت کو اس طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں