انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 27

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہتک آمیز فقرہ کہہ دیتا تو اُنہوں نے اُس کے سب اوتاروں کو رگڑ دینا تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کی روایت ہے جو آپ کی زندگی میں احمدیت میں داخل نہیں ہوا تھا۔ ان حالات کے ہوتے ہوئے ایک احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ آپ کی یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور قادیان ہمیں واپس نہیں ملے گا۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ اس دلیل کو لیتا ہے ۔ اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ کے یعنی اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنی اعقاب پر پھر جاؤ گے۔ یہ آیت جنگ اُحد کے متعلق ہے جس میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر یہ خبر صیح بھی ہوتی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں تو کیا تم مرتد ہو جاتے ۔ حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا اور یہ وعدہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ آپ انسانی ہاتھوں سے قتل نہیں ہونگے ۔ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کے اللہ تعالیٰ آپ کو انسانی ہاتھوں سے محفوظ رکھے گا اور قتل نہیں ہونے دے گا ۔ ادھر تو رات میں بھی یہ موجود تھا کہ آخری نبی کو کوئی شخص مار نہیں سکتا اگر کسی نے دعوی نبوت کیا اور پھر وہ مارا گیا تو وہ جھوٹا ہوگا ۔ مگر با وجود اس کے کہ تو رات میں بھی یہ بات موجود تھی کہ آخری نبی انسانی ہاتھوں سے مارا نہیں جائے گا اور قرآن کریم میں بھی یہ لکھا تھا وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ آپ انسانی ہاتھوں سے مارے نہیں جائیں گے۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آفائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى اعقابكم که اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم اپنی اعقاب پر پھر جاؤ گے؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا کہ آپ قتل نہیں ہو نگے ۔ بے شک تو رات میں بھی یہ لکھا تھا کہ آخری نبی مارا نہیں جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ مارے جاتے تو کیا آپ جھوٹے ہوتے ؟ کیا آپ کی صداقت کے اور بھی دلائل موجود ہیں یا نہیں؟ آپ کی صداقت کے تو اس قدر دلائل موجود ہیں کہ تم نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا اس لئے آپ نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹے ہیں ۔ تم یہی کہہ سکتے ہو کہ پھر ہم اس پیشگوئی کے