انوارالعلوم (جلد 21) — Page 586
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۶ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو دوائیوں میں پڑتا ہے۔ جتنی ٹنکچر ز ہیں سب شراب سے تیار ہوتی ہیں ۔ مثلاً دائم ایپکاک، سپرٹ ایمونیا ایرومیٹک ٹنکچر آیوڈین وغیرہ سب میں شراب ہوتی ہے گو اس کے صرف چند قطرے ہی ہوتے ہیں مگر بہر حال شراب دوائی کے طور پر انسان استعمال کر سکتا ہے اور شریعت نے اس کی ممانعت نہیں کی لیکن ایک گروہ نے کہہ دیا کہ شراب دوائی کے طور پر بھی استعمال نہیں کی جاسکتی اور دوسرے نے کہہ دیا کہ مٹکے کے مٹکے پی جاؤ تو کوئی حرج نہیں ۔ کچھ مردوں نے تو پردہ کو سرے ہی سے اُڑا دیا اور کچھ مردوں نے عورتوں پر اتنا تشدد کیا کہ جب وہ باہر نکلتیں تو اُنہیں ڈولیوں میں بٹھاتے بلکہ فخریہ کہا کرتے کہ ڈولی گھر میں آئے گی اور ڈولا مر کر نکلے گا۔ درمیانی مقام جس پر شریعت قائم کرنا چاہتی ہے اس کو اختیار کرنے کے لئے لوگ تیار نہیں ہوتے ۔ اللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ہم تجھ کو ایک نور دینے والے ہیں مگر اس نور کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ اسے اِدھر پھینکیں گے اور کچھ اُدھر پھینکیں گے ۔ وسطی مقام جس پر تو کھڑا ہو گا اُس پر کھڑے ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ پس اس کے لئے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ اور اُس کی مدد سے ایسی کوشش کر کہ لوگ حقیقی توازن کو قائم رکھیں اور افراط اور تفریط کا شکار نہ ہو جائیں ۔ تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے اس بارہ میں ایک رویا بھی دیکھا ہے ۔ گزشتہ دنوں جب میں اپنے رویا لکھوانے لگا تو یہ رویا لکھوانا میں بھول گیا۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ عورتوں میں میری ایک تقریر ہونے والی ہے شاید اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ میں سب سے پہلے اس رویا کو عورتوں کے جلسہ میں بیان کروں ، چنانچہ وہ رویا میں آج بیان کر دیتا ہوں ۔ چند دن ہوئے میں نے ایک خواب میں دیکھا کہ ایک مرد ہے جو اپنے پاؤں سے کسی چیز کو مسل رہا ہے۔ مگر خواب میں میں اُس کو ایک مرد نہیں سمجھتا بلکہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تمام مردوں کا نمائندہ یا ان کا قائم مقام ہے ۔ اُس مرد پر ایک چادر پڑی ہوئی ہے اور وہ اپنے پیروں کو زمین پر اس طرح مار رہا ہے جیسے کسی چیز کو مسلنے کے لئے بار بار پیر مارے جاتے ہیں ۔ اُس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں اس کے پیر ہیں وہاں کیچڑ میں دنیا بھر کی عورتیں مچھلیوں کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں اور وہ اُن کو اپنے پیروں سے مسلنا چاہتا ہے۔ یہ دیکھ کر میرے دل میں عورتوں کی ہمدردی کا