انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 584

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۴ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو اُس کا انکار نہ کریں ۔ ہر تعلیم کا لوگوں نے انکار کیا اور ہر نور جو ظاہر ہوا اُس کا اُنہوں نے مقابلہ کیا ۔ سب سے پہلے آدم آئے اور شیطان نے انہیں ورغلا کر جنت سے نکال دیا۔ پھر نوح آئے تو شیطان ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ۔ اسی طرح ابراہیم ، موسی اور عیسی آئے تو دنیا نے اُن کی مخالفت کی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو پھر شیطانی قوتیں آپ کے مقابلہ میں کھڑی ہو گئیں ۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو آپ کے مقابلہ میں بھی طرح طرح کے منصوبے کئے گئے اور آپ کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ پس فرماتا ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تو یہ کہہ کہ میں اُس خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جس نے یہ نو ر اور روشنی پیدا کی ہے کیونکہ جس نے اس نور کو پیدا کیا ہے لازماً اس کا فکر سب سے زیادہ اُسی کو ہو گا ۔ ہم بیشک احمدی ہیں اور ہم میں اسلام کا درد پایا جاتا ہے مگر جتنا ہمیں اسلام اور احمدیت کے بچانے کی فکر ہے یہ صاف بات ہے کہ خدا تعالیٰ کو اس سے بہت زیادہ ہے ۔ ہم صرف مومن ہیں اور خدا تعالٰی مومنوں کو پیدا کرنے والا ہے ۔ پس ہماری اور اس کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے گلی میں اگر ہم کسی بچے کو دیکھیں کہ وہ گھوڑے کی زد میں آنے والا ہے تو لازماً ہم اُسے گھوڑے کی زد سے بچانے کی پوری کوشش کریں گے مگر بہر حال ہماری بے تابی اور ہماری جدو جہد اُس کی ماں کی بے تابی اور جد و جہد کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ ایک ماں اپنے بچے کو بچانے کے لئے جس طرح دوڑ کر آتی ہے اور جو کوشش اور جدو جہد کرتی ہے وہ بالکل اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسرے آدمی کی جدو جہد اور رنگ کی ہوتی ہے ۔ یا مثلاً تیز بارش ہو رہی ہے اور مکانات گر رہے ہوں تو جس درد اور جوش کے ساتھ ایک مالک اپنے مکان کی حفاظت کر سکتا ہے وہ درد اور جوش کسی غیر میں نہیں پایا جا سکتا ، خواہ وہ اس کے لئے کتنی ہی کوشش کرے۔ پس بے شک ہمارے دلوں میں بھی اسلام کی محبت ہے، ہمارے دلوں میں بھی احمدیت کی محبت ہے مگر جو محبت ہمارے خدا کو اسلام اور احمدیت سے ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ ہماری حیثیت صرف ایک دوست اور ایک ساتھی کی سی ہے اور خدا تعالیٰ کی حیثیت ایک خالق اور