انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 582

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۲ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو جھوٹ نہیں کہہ رہا۔ تو اس جگہ قل کا لفظ استعمال کرنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے اخلاق اتنے اعلیٰ ہیں اور تیری خوبیاں اتنی نمایاں ہیں کہ اگر تو کہہ دے کہ میں ایسا ہوں تو سب لوگوں کو ماننا پڑے گا کہ وہ بات سچ ہے اور اُنہیں لازماً تیری بات کے پیچھے ہی چلنا پڑے گا۔ دوسری طرف اس میں دشمن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ میری تعلیم تو یہ ہے اگر تم میں طاقت ہے تو آؤ اور مقابلہ کر لو آخر یہی ہوگا کہ تم ہارو گے اور میں جیتوں گا یہ چیز بھی ایسی ہے جو کوئی معمولی آدمی پیش نہیں کر سکتا ۔ جب فتح مکہ ہوئی تو کفار میں سے سات آدمی ایسے تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تھا کہ وہ جہاں ملیں اُن کو قتل کر دیا جائے کیونکہ اُنہوں نے مسلمانوں پر انتہائی دردناک مظالم کئے ہوئے تھے۔ انہی میں ایک ابوسفیان کی بیوی ہندہ بھی تھی جس نے اُحد کے موقع پر اُس شخص کے لئے انعام مقرر کیا تھا جو حضرت حمزہ کو قتل کر دے۔ اور پھر جب ایک شخص نے حضرت حمزہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا تھے قتل کر دیا تو اس نے اُن کا کلیجہ نکال کر چبایا اور اُن کے کان اور ناک وغیرہ کاٹ کر مُثلہ کر دیا ۔ پس چونکہ اس کا جرم نہایت ظالمانہ اور انسانیت کے ماتھے پر ایک خطرناک داغ تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا بھی حکم نافذ فرما دیا۔ مگر وہ عورت ہو شیار تھی جب مکہ میں اسلامی لشکر داخل ہوا تو وہ کہیں روپوش ہو گئی اور تلاش کے باوجود لوگوں کو نہ مل سکی ۔ ایک دن جب کہ مکہ کی عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے لئے جا رہی تھیں وہ بھی کپڑا اوڑھ کر ان کے ساتھ مل گئی اور آپ کی بیعت کرنے کے لئے چلی گئی ۔ بیعت کے الفاظ دہراتے دُہراتے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے کہ کہو کہ ہم اقرار کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں تو ہندہ رک نہ سکی اور وہ بے اختیار کہنے لگی يَا رَسُولَ اللهِ! کیا اب بھی ہم کسی اور کو معبود بنا ئیں گے؟ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ آپ اکیلے تھے اور ہم جتھے والے تھے آپ کمزور تھے اور ہم طاقتور تھے ، آپ کے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا اور ہم دولت مند تھے مگر باوجود اس کے کہ آپ کے پاس کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جس سے آپ کامیاب ہو سکتے پھر بھی آپ نے چیلنج دیا کہ میں جیتوں گا اور تم ہارو گے۔ اور پھر باوجود اس کے کہ ہم نے آپ کا شدید مقابلہ کیا ، ہم نے آپ پر