انوارالعلوم (جلد 21) — Page 577
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۷ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو اس بات کا خیال مجھے اس وجہ سے پیدا ہوا کہ جب لجنہ اماء اللہ کی چند نمائندہ خواتین میرے پاس ربوہ آئیں تو اُن میں سے ایک خاتون نے مجھے بار بار کہا کہ آدمیوں کو تو آپ سے فائدہ اُٹھانے کے لئے بہت سا وقت مل جاتا ہے لیکن ہمیں نہیں ملتا۔ آخر مجھے کہنا پڑا کہ کیا تم اپنے آپ کو آدمی نہیں سمجھتیں !! آدمی کے معنی ہیں جو آدم کی اولاد ہو اور آدم کی اولاد ہونے کے لحاظ سے جس طرح مرد اُس کی اولاد ہیں اسی طرح عورتیں بھی اس کی اولاد ہیں پس تم بھی ویسے ہی آدمی ہو جیسے وہ آدمی ہیں ۔ اگر پہلے ہی تم اپنے آپ کو آدمیت سے خارج کر لیتی ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم خود مردوں کے لئے ظلم کا راستہ کھولتی ہو ۔ بہر حال عورتیں بھی قوم کا ایک حصہ ہیں اور وہ ان قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قوموں کی ترقی اور ان کے تنزل کے متعلق جاری کئے ہوئے ہیں ۔ یہ چھوٹی سی سورۃ جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے اور جسے سورۃ الفلق کہا جاتا ہے اس میں قوموں کی ترقی اور تنزل کے متعلق بعض احکام بیان کئے گئے ہیں جن کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قال اے محمد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں مخلوق کے پیدا کرنے والے یا خلق کے پیدا کرنے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں ۔ دنیا میں جب کسی سے کوئی بات کہی جاتی ہے تو اُس کی غرض یا تو دوسرے کو یہ بتانا ہوتی ہے کہ میرا مذہب اور میرا عقیدہ یہ ہے اور یا دوسرے کو چیلنج کرنا مقصود ہے کہ میں تو اس راستہ پر قائم ہوں اگر تم اس کے خلاف ہو تو بیشک اپنا زور صرف کرلو مجھے تمہاری مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں ۔ گویا لوگوں سے کچھ کہنا یا تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے استاد پنے شاگرد سے کوئی بات کہتا ہے یا باپ اپنے بیٹے سے کوئی بات کہتا ہے یا ماں اپنی بیٹی سے کوئی بات کہتی ہے ۔ مثلاً باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے میں تجھے بتاتا ہوں کہ میرا مذہب یہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر تم میری عظمت کو پہچانتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی اسی مذہب کو اختیار کرو۔ یا ماں اپنی بیٹی سے کہتی ہے کہ میں تمہیں سچی بات بتاؤں میرا عقیدہ تو یہ ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ تم بھی اس عقیدہ پر غور کرو۔ لیکن کبھی طعنہ کے طور پر بھی