انوارالعلوم (جلد 21) — Page 567
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۶۷ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام ۔۔۔ کر کے اُن پر یہ اثر ڈال لیں تا جب یہ بات شورٹی کے سامنے پیش ہو تو پہلے ہی جماعتیں اس کی تائید کریں ۔ چنانچہ صدرانجمن احمد یہ کے ایجنڈا میں یہ بات رکھی گئی کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مشورہ کر لیا جائے ۔ میں بھی صدر انجمن احمد یہ کا ممبر تھا لیکن اتفاقاً یا ارادہ وہ تجویز مجھے نہ بھیجی گئی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے معلوم بھی نہ ہوا کہ کیا ہونے والا ہے۔ میں چھوٹی سی مسجد کے باہر کسی سے باتیں کر رہا تھا کہ کسی نے کہا اندر شوری ہو رہی ہے اور آپ یہاں کھڑے ہیں ۔ میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں مسجد میں گیا ، کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد کناروں تک بھری ہوئی ہے۔ میں نے آگے نکلنا چاہا لیکن جگہ نہیں تھی ۔ اُس وقت چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ماموں چوہدری عبداللہ خان صاحب وہاں کھڑے تھے ایک دھندلی سی یاد پڑتی ہے کہ اُنہوں نے کہا اچھا ہوا کہ آپ آگئے ۔ کنارے کے پاس ذرا آگے مجھے تھوڑی سی جگہ مل گئی اور میں وہاں کھڑا ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک کے بعد دوسرا کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے کے بعد تیسرا کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے ہمیں اس سکول کی ضرورت ہی کیا ہے، ہر مسلمان عالم ہوتا ہے۔ جب کوئی ڈاکٹر بنے گا یا وکیل بنے گا اور اس کے پاس دینی تعلیم بھی ہوگی تو جتنی تبلیغ وہ کر سکے گا اتنی مولوی نہیں کر سکتے ۔ غرض ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا کھڑا ہوتا اور مدرسہ احمدیہ کے خلاف تقریر کرتا ۔ غریب سے غریب آدمیوں نے بھی جب یہ سنا کہ لڑکوں کو وظیفے دیئے جائیں گے اور انہیں ڈاکٹر اور وکیل بنایا جائے گا تو اُن کے منہ میں پانی آنا شروع ہوا کہ کل ان کا لڑکا بھی ڈاکٹر یا وکیل بنے گا۔ اُنہوں نے بھی جوش میں آکر یہ کہنا شروع کر دیا یہ مبارک بات ہے ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک آواز بھی ایسی نہیں تھی جو اس کی تائید میں ہو کہ مدرسہ احمد یہ جاری رکھنا چاہئے ۔ تب میں نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ شاید بعض دوستوں کو اُس وقت معلوم ہوا کہ میں بھی مجلس میں آچکا ہوں ۔ میری اُس وقت ۱۹ سال کی عمر تھی شاید بعض سٹوڈنٹس کی عمریں مجھ سے زیادہ ہوں ۔ میں نے کہا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ جماعت گوساری کی ساری اس بات پر متفق تھی کہ مدرسہ احمد یہ توڑ دینا چاہئے لیکن ان سب نے بیک آواز کہا کہ ہاں ہاں ! آپ