انوارالعلوم (جلد 21) — Page 500
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۰۰ اسلام اور ملکیت زمین انسان کے اختیار میں رکھا ہے آؤ ہم نئے بہاؤ بنائیں ۔ اُنہوں نے نہریں بنائیں اور نالے بنائے اور ویران ملکوں کو آباد کر دیا۔ پس کوئی شخص میری بات سنے یا نہ سنے۔ میں یہ صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں کمیونزم کے خوف کی وجہ سے کوئی بات نہیں کہنی چاہئے ۔ اگر کمیونزم اچھی چیز ہے تو اُس سے خوف کے کوئی معنی نہیں ہمیں شوق سے اس کو قبول کرنا چاہئے اور اس کے خلاف سب باتوں کو چھوڑ دینا چاہئے ۔ خواہ مذہب کے نام پر کوئی بات کہی جاتی ہو یا کسی اور نام پر ۔ جو بات ٹھیک ہے وہ بہر حال ٹھیک ہے لیکن اگر کمیونزم غلط ہے تو محض اس وجہ سے کہ وہ ایک نئی تعلیم پیش کر رہی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس اُس کی طرف بھاگے جارہے ہیں ہمارا اُس کو قبول کر لینا خودکشی کے مترادف ہوگا اور ہمیں بہادروں کی صف میں نہیں بلکہ بزدلوں کی صف میں کھڑا کرے گا۔ اسلام عیسائیت کی طرح ایسا مذہب نہیں جس نے یہ کہہ دیا ہو کہ شریعت ایک لعنت ہے اور صرف چند اصول بتا دیئے ہوں ۔ قرآن کریم اور اسلام نے صرف اصول ہی نہیں بتائے انہوں نے فروغ بھی بتائے ہیں اور دنیا کے تمام مسائل قرآن کریم اور احادیث میں موجود ہیں یا ایسی نصوص موجود ہیں جن سے اُن کے متعلق قواعد اخذ کئے جاسکتے لیکن نص کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ سنت اُس کی تصدیق کرے ۔ پس ہم یہ نہیں کر سکتے کہ قرآن شریف کی بعض آیتوں کو لے لیں اور قطع نظر اس کے کہ قرآن اور حدیث میں اس کی تفصیل کس طرح بیان کی گئی ہیں آپ ہی آپ اُن سے مسائل اخذ کرنے لگ جائیں بلکہ ہمیں اُن کی تفصیلات کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ آج کا تعلیم یافتہ آدمی اس بات سے ڈرتا ہے کہ وہ دنیا کو کیا کہے کہ اسلام نے غریبوں کے اُبھار نے کے لئے کیا کیا ہے ۔ اُس کو اسلام پر عدم تدبر کی وجہ سے اور کوئی رستہ نظر نہیں آتا صرف وہی رستہ نظر آتا ہے جسے کمیونزم نے پیش کیا ہے۔ یعنی جن کے پاس ہے اُن سے چھین لو اور جن کے پاس نہیں ہے اُن کو دے دو ۔ حالانکہ کمیونزم کی بنیاد مادیات پر ہے اور اسلام کی بنیا د روحانیات پر اور علم غیب پر ہے۔ کمیونزم نہیں جانتی کہ دنیا کے اندر کیا کیا قو تیں چھپی ہوئی ہیں لیکن اسلام کا خدا جانتا ہے کہ اُس نے انسانوں کے فائدہ کے لئے کیا کچھ اِس دنیا میں بھر رکھا ہے ۔ ہم غلط طریقے اختیار کر کے یقیناً اسلام کو بدنام کرتے اور اپنے بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنے کا موجب