انوارالعلوم (جلد 21) — Page 478
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۸ اسلام اور ملکیت زمین لوگوں کے مختلف خیالات ہیں ۔ وَاللهُ أَعْلَمُ 29 ہے جو معنوں یہ حوالہ جس کتاب سے سندھ زمیندارہ کمیٹی کی اقلیتی رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کسی قدر مختلف ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اصل کتاب سے مفصل عبارت کا ترجمہ درج کر دیا جو لفظا لفظ صحیح ہے ۔ ہر شخص اصل کتاب نکال کر دیکھ سکتا ہے کہ ترجمہ وہی ہے جو ترجمہ وہی ہے جو میں نے کیا ہے اور وہ غلط ہے جو اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اِس حوالہ سے ظاہر ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے ہر کہ نے ہرگز یہ بحث نہیں کی اور نہ یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہندوستان کی زمین کی حکومت اُن معنو میں مالک ہے جن معنوں میں اقلیت کی رپورٹ میں لیا گیا ہے۔ شاہ صاحب تو اس پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ہندوستان کی زمین پر عشر لینا واجب ہے یا نہیں اور مختلف اقوال نقل کر رہے ہیں کہ بعضوں نے اس زمین کو خراجی قرار دیا ہے اور حکومت کی ملکیت قرار دیا ہے اور بعضوں نے اس کو عشری قرار دیا ہے یعنی اس پر وہ احکام جاری کئے ہیں جو مسلمان کی مملوکہ زمین کے ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ کیونکر نتیجہ نکل آیا کہ زمین حکومت کی ہے اور وہ جس طرح چاہے اُس کو تقسیم کر سکتی ہے۔ خراجی اور عُشری کی بحث کا اس معاملہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں اور نہ شاہ صاحب نے اس جگہ پر اپنی کوئی رائے دی ہے ۔ اور نہ اس پر بحث کی ہے کہ خراجی اور عُشری زمین کی ملکیتیوں میں فرق کیا ہوتا ہے یمن کی زمین جو عیسائیوں اور یہودیوں کے نیچے تھی وہ خراجی تھی لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین یہودیوں اور عیسائیوں سے لے لی اور اُن کو عرب کے جزیرے سے نکال دیا تو باوجود اس کے کہ وہ زمین خراجی تھی اور اصولی طور پر حکومت اُس کی مالک سمجھی جاتی تھی اُنہوں نے وہ زمین اُن سے چھینی نہیں بلکہ خریدی ۔ چنانچہ فتح الباری ( شرح بخاری ) جلد ۵ صفحہ ۸ پر یہ حدیث درج ہے ۔ عن يحيى بن سعيد ان عمر اجلی اهل نجران واليهود والنصارى واشترى بياض ارضهم و كرومهم یعنی یحی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے نجران کے مشرکوں ! وں اور یہودیوں اور عیسائیوں کو وہاں جلا وطن کر دیا اور اُن کی زمینیں اور باغ خرید لئے ۔ سے یہ ظاہر ہے کہ یہودیوں کی زمین عشری نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر وہ عشر تھی تو اس کا مالک کوئی مسلمان ہوگا ۔ پس یہودیوں سے اُس کے خریدنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا وہ یقیناً خراجی تھی