انوارالعلوم (جلد 21) — Page 474
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۴ اسلام اور ملکیت زمین لا يجوز المساقاة ولا المزارعة الا بالدراهم والدنا نير وما اشبههما من رح العروض وهذا كله قول ابي حنيفة ٩٦ یعنی باغ اور زمین کو ٹھیکے پر دینا جائز ہے سوائے اس کے کہ سونے اور چاندی کے بدلہ میں اُنہیں ٹھیکے پر دیا جائے یا ایسی چیزیں جو قیمت کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اُن کے بدلہ میں انہیں ٹھیکہ پر دے دیا جائے اور یہ سب کہ سب الفاظ امام ابو حنیفہ کے ہیں ۔ حنفی علماء جانتے ہیں کہ علامہ طحاوی حنفیوں کے فقہاء میں سے آئمہ کے بعد بڑے رتبہ کے لوگوں میں سے ہیں ۔ نو وی میں لکھا ہے المزارعة مختلف فيها عند الحنفية فابو حنيفة يقول انها لا تجوز الا بالذهب والورق) وابو يوسف ومحمد يقولان بجوازها مطلقا ۹۷ یعنی زمین کو مقاطعہ پر دینے کے بارہ میں حنفیوں میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ زمین صرف سونے چاندی کے بدلہ میں ٹھیکہ پر دی جاسکتی ہے بٹائی پر نہیں۔ لیکن امام ابو یوسف اور امام محمد دونوں اُن کے شاگرد یہ کہتے ہیں کہ زمین کو ٹھیکے پر دینا خواہ بٹائی پر ہو یا روپیہ کے بدلہ میں دونوں طرح جائز ہے۔ پس علامہ سندھی نے جو بات امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب کی ہے وہ حنفی فقہ سے کلی طور پر غلط ثابت ہوتی ہے۔ نہ امام ابو حنیفہ نے یہ کہا ہے کہ زمین کو مقاطعہ پر دینا قطعی طور پر ناجائز ہے اور نہ اُنہوں نے یہ کہا کہ انسان صرف اتنی ہی زمین اپنے پاس رکھ سکتا ہے جس کو وہ خود کاشت کر سکے ۔ یہ دونوں باتیں سراسرغا سرا سر غلط ہیں ۔ اقلیتی رپورٹ میں امام ابو یوسف پر ایک نہایت ہی رکیک الزام لگایا گیا ہے ۔ اُس میں لکھا ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیک زمین ٹھیکے پر دی جاسکتی ہے اور پھر لکھا ہے کہ وہ تو ہارون الرشید کے بڑے مفتی تھے جو شہنشاہیت کا بڑا علمبردار تھا اور اس لئے امام ابو یوسف سے یہ امید بھی نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ ہارون الرشید کے ان خیالات کے خلاف کہہ سکے ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ اس زمانہ کے معمولی معمولی ٹٹ پونجئے گریجوایٹوں کے متعلق یا مولویوں کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ اُن پر بدظنی نہ کی جائے لیکن امام ابو یوسف جیسے انسان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اُن کا یہ فتویٰ دیانت داری پر مبنی نہیں تھا بلکہ ہارون الرشید کو خوش کرنے کے لئے