انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 461

انوار العلوم جلد ۲۱ ٤٦١ اسلام اور ملکیت زمین سے میرے دونوں چوں نے ذکر کیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمین مقاطعہ پر دیا کرتے تھے اور شرط یہ ہوتی تھی کہ جو فصل پانی کی نالیوں کے کنارے پر ہو اور جو فصل اُن ٹکڑوں پر ہو جن کو زمین کا مالک خود پسند کرے وہ اُس کی ہوگی اور باقی مزارع کی ہو گی اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو منع فرمایا ۔ اس حدیث میں بھی اربعاء کا لفظ ہے جو ربیع کی جمع ہے اور اس کے معنے چوتھے حصے کے نہیں بلکہ پانی کے نالوں کے کناروں کی فصل کے ہیں ۔ چنانچہ یہ حدیث جہاں بخاری میں آتی ہے وہاں اسکی شرح میں علامہ ابن حجر لکھتے ہیں الاربعاء جمع ربيع وهو النهر الصغير والمعنى انهم كانوا يكرون الارض ويشترطون لانفسهم ما ينبت على الانهار -۹- یعنی اربعاء کا لفظ جو اس حدیث میں آیا ہے وہ ربیع کی جمع ہے اور اس کے معنی چھوٹی نہر کے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانہ میں لوگ زمین مقاطعہ پر دیتے وقت یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ جو فصل نہروں کے کناروں پر ہوگی وہ مالک لے گا۔ علامہ شوکانی اس حدیث کو پیش کر کے یہ نوٹ لکھتے ہیں : - هذا الحديث يدل على ان سبب النهى هو هذا و وجه ذالك الجهالة وتجويز عدم حصول ما ينبت في المكان الذي كان التاجير على ما يخرج منه وعليه يحمل ماورد من مطلق النهى عن المخابرة ٨٠ یعنی اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے منع فرمایا وہ یہی بات تھی نہ کہ زمین کا بٹائی پر دینا۔ اور اس مناہی کی وجہ یہ ہے کہ یہ امر کہ فلاں ٹکڑا میں کیا فصل ہو گی غیر معلوم ہے اور جوئے کی قسم ہے اور اس سے یہ بھی خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ معینہ مقدار غلہ کی مالک کو دے کر مزارعہ کے لئے کچھ بھی نہ بچے حالانکہ مزارعہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مزارع کا بھی فصل میں حصہ ہوگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مخابرۃ سے منع فرمایا ہے اُس سے بھی یہی مراد ہے۔ مسلم کی ایک روایت سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صرف یہی طریقہ مقاطعہ کا رائج تھا چنانچہ اُس میں یہ حدیث آتی ہے ۔ عن حنظلة بن قيس الانصارى قال سألت رافع بن خديج عن كراء الارض بالذهب والورق قال لابأس