انوارالعلوم (جلد 21) — Page 429
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۲۹ اسلام اور ملکیت زمین سے بھی زیادہ زمین ہوگی ۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے : ۔ قد اقطع رسول الله الله الزبير بن العوام ركض فرسه من موات النقيح فاجراه ثم رمى بسوطه رغبة في الزيادة فقال رسول الله اعطوه منتهی سوطه ۲۰ سنن ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح درج ہے کہ اقطع الزبیر حضر فرسه فاجرئ فرسه حتى قام ثم رمى بسوطه فقال اعطوه من حيث بلغت السوط اسے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو سرکاری زمینوں میں سے ایک اتنا بڑا ٹکڑا عطا فر ۔ بڑا ٹکڑا عطا فرمایا جس میں کہ حضرت زبیر کا گھوڑا وڑا آخری سانس تک دوڑ سکے ۔ حضرت زبیر کا گھوڑا جس جگہ پر جا کر کھڑا ہوا وہاں انہوں نے اپنا کوڑا بڑے زور سے اور پرے پھینکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ نہ صرف اس حد تک زمین اُن کو دی جائے جہاں اُن کا گھوڑا جا کر کھڑا ہو گیا تھا بلکہ جہاں اُن کا کوڑا گرا تھا اُس حد تک ان کو زمین دی جائے ۔ ہمارے ملک کا گھوڑا بھی میلوں میل دوڑ سکتا ہے اور عرب کا گھوڑا تو بہت زیادہ تیز ہوتا ہے اگر چار پانچ میل بھی گھوڑے کی دوڑ رکھی جائے تو ہیں ہزار ایکڑ کے قریب زمین بنتی ہے ۔ سے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کتاب الخراج کے صفحہ ۳۴ پر لکھتے ہیں اقطع رسول الله الله الزبير ارضا فيها۔۔۔۔۔۔۔ نخل من اموال بنی نضیر و ذکر انها كانت ارضا يقال له الجرف ۲ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو ایک زمین کا ٹکڑا بخشا جس میں کھجور کے درخت بھی لگے ہوئے تھے اور وہ کسی وقت یہودی قبیلہ بنو نضیر کی ملکیت میں سے تھا اور اُس کو جرف کہتے تھے یعنی وہ ایک مستقل گاؤں تھا ۔ جب ہم پہلی حدیثوں سے اس حدیث کو ملائیں تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو اُس وقت اور اوپر والی زمین بخشی جبکہ وہ پہلے سے ایک گاؤں کے مالک تھے جس میں کھجور کے باغ بھی تھے۔ کتاب الخراج کے صفحہ ۳۵ پر امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ ایک اور روایت بھی درج فرماتے ہیں جو یہ ہے ۔ عن ابي رافع قال اعطاهم النبى صلى الله عليه وسلم ارضا فعجز وا عن عمارتها فباعوها في زمن عمر ابن الخطاب رضى الله عنه بثمانية الاف دينارا