انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 427

انوار العلوم جلد ۲۱ چھٹا باب ۴۲۷ اسلام اور ملکیت زمین کیا زمین کے بڑے بڑے ٹکڑوں کی ملکیت بھی جاگیرداری کی طرح ممنوع ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نہیں ۔ اسلام میں زمین کے بڑے بڑے ٹکڑوں کا مالک ہونا بھی جائز ہے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا مالک ہونا بھی جائز ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ میں جو خیبر کی زمین آئی تھی وہ اتنی بڑی تھی کہ کان ينفق منها وياكل و يعود على فقراء بني هاشم ويزوج ايمهم ۳۵ یعنی رسول کریم صلی الله علیہ وسلم اس زمین کی آمد میں سے اپنے اخراجات اور اپنے 9 گھروں کے اخراجات بھی نکالتے تھے اور بنو ہاشم کے غرباء پر بھی اسے خرچ کرتے تھے اور بنو ہاشم کی بیواؤں کے نکاح بھی اس روپیہ سے کرتے تھے۔ اس طرح حدیث میں آتا ہے ۔ قـد سـال يـمـيم الدارى رسول الله الله ان يقطعه عيون البلد الذي كان منه بالشام قبل سے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آپ شام کی بعض نہروں کی زمین اُن کو عطا فرمادیں اور آپ نے اُن کو وہ زمین عطا فرمادی ۔ اس طرح روایت ہے کہ حضرت عمر و بن عاص کا طائف میں انگوروں کا ایک باغ تھا جس میں دس لاکھ لکڑی سہارے کی لگی ہوئی تھی ۳۷ اگر ایک ایک انگور کے سہارے کے لئے دس دس لکڑیاں بھی سمجھی جائیں تو ایک لاکھ درخت بنتا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سو ایکڑ سے بڑا بنتا او باغ تھا۔ باغ کے ایک ایکڑ کی آمدن دس ایکڑ زرعی زمین سے زیادہ ہوتی ہے گویا ایک ہزار ایکٹر ایکٹر کی ملکیت اُن کے پاس تھی ۔ ۔ كتاب الخراج صفحه ۳۵ پر شیخ الاسلام امام ابو یوسف شاگرد حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے