انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 364

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۴ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی معنی ہیں کہ وہ بات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کہی وہ نَعُوذُ بِاللہ جھوٹی نکلی؟ یا کوئی ایسی گنجائش ہے کہ اس کے معنی بدل سکیں ؟ یا درکھنا چاہیے کہ بخاری میں لکھا ہے جب دنیا سے ایمان اُٹھ جائے گا تو خدا تعالیٰ فارسی النسل لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے کرے گا جو ایمان کو پھر اس دنیا میں واپس لائیں گے ۔ بعض روایات میں رجال کا لفظ آتا ہے اور بعض روایات میں رجال کا لفظ آتا ہے ۔ یعنی یہ پیشگوئی ایک سے زیادہ اشخاص کے ہاتھ سے پوری ہوگی ۔ رجال کا لفظ استعمال کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ یہ پیشگوئی ایک ہی شخص کے متعلق نہ سمجھ لینا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی واضح کر دیا کہ کسی نبی کے خلیفہ کے ذریعہ بھی اُس کی بعض پیشگوئیاں پوری ہو جاتی ہیں اس لئے ضروری نہیں کہ یہ پیشگوئی یعنی ہجرت کی پیشگوئی میرے ہی ذریعہ پوری ہو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پیشگوئی میرے کسی ظل کے ذریعہ سے پوری ہو۔ پھر میں نے جو رویا میں دیکھا کہ میں مسیح موعود ہوں تو اس سے بھی یہ سوال حل ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ۔ میرا ایک بیٹا ہوگا جو حسن واحسان میں میرا نظیر ہوگا ۔ پھر ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثیل بن کر آوے ۔ ۱۵ المسيح مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت رت خلیفہ اصبح الاول نے مجھے فرمایا کہ میاں ! اپنے ابا سے پوچھو تو سہی کہ وہ مسیح کو نسے ہیں اور وہ کب ہوں گے؟ بہر حال جب اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت قریب آیا تو میں نے وہ رؤیا دیکھا جس میں میرے منہ سے نکلا أَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ مَثِيلُهُ وَ خَلِيفَتُهُ خدا تعالیٰ نے جب دیکھا کہ لوگ کہیں گے کہ یہ پیشگوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پوری ہوئی تھی تو اُس نے میرے منہ سے نکلوا دیا کہ اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ ۔ میں بھی مسیح موعود ہوں گو یا ساڑھے تین سال قبل اس کی پیش بندی کر دی ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ اُس وقت ختم نہیں ہوا جبکہ وہ فوت ہوئے بلکہ وہ جاری رہنے والا تھا اور اُس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک کہ اسلام قوت نہیں پکڑتا ۔ ا اور تک نیا حضرت خلیفة المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ میرا زمانہ اس لئے حضرت مسیح موعود کا زمانہ