انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 351

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی ہے انہی کا دل چاہتا تھا کہ اسے خوب جھنجھوڑیں اور مروڑیں کہ تم نے تو پیار کر لیا ہمیں کیوں یہ موقع نہ ملا ۔ یہ وادی بے آب و گیاہ، یہ گردوغبار، اِس میں بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو دیکھنے والے کو عجیب معلوم ہوتی ہیں مگر عشق کی نگاہ میں وہ بڑی پیاری ہیں لیکن پھر بھی مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی تکلیف کا موجب نہ بنے ۔ مجھے بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ موٹروں والے اپنی موٹریں بے تحاشا چلاتے ہیں جس کی وجہ سے گرد و غبار ہم پر پڑتا ہے، ہماری آنکھیں مٹی سے بھر جاتی ہیں ، ہمارے چہرے غبار سے اٹ جاتے ہیں ، کپڑے خاک آلودہ ہو جاتے ہیں ، نزلہ زکام اور کھانسی میں ہم مبتلا ہو جاتے ہیں ، ہمارا دل چاہتا ہے کہ انہیں ذرا کھڑے کر کے پوچھیں کہ تم یہ کیا حرکتیں کرتے ہو؟ میں کہتا ہوں بے شک ان کا ذہن بدظنی کی طرف گیا ہے لیکن میرا ذہن نیک ظنی کی طرف جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ لوگ اپنی موٹریں اس لئے نہیں بھگاتے کہ وہ دکھا ئیں کہ ان کے پاس موٹریں ہیں بلکہ شاید وہ اس لئے کاریں دوڑاتے ہیں کہ وہ اس وادی بے آب و گیاہ میں بھی جس میں ہزاروں سال سے کوئی آدم زاد نہیں بسا اپنی کاریں دوڑائیں تا خدا تعالیٰ کے اس نشان میں جو اس سرزمین میں دکھایا گیا وہ بھی حصہ دار ہوں ۔ اگر وہ اس نیت سے موٹریں دوڑاتے ہیں تو میں کہوں گا اے مبارک گرد! تو بھی خدا تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے آ اور ہمارے کپڑوں اور جسموں کو گرد آلود کر دے۔ آ اور ہمارے ناک اور آنکھوں کو بھر دے، ہمیں نزلہ، زکام اور کھانسی کی کچھ پرواہ نہیں ۔ محبت کی نگاہ میں یہ مٹی بھی ایک شان رکھتی ہے۔ آخر یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے کہ اس نے ہزار ہا سال کے بعد اس زمین کو جس کے آباد کرنے سے لوگ عاجز آ گئے تھے اپنی پاک جماعت کے ذریعہ آباد کیا۔ اور جیسا کہ میں نے گل بتایا تھا مرغابیاں ایک جگہ پر بیٹھی ہوئی ہوتی ہیں اُن پر شکاری فائر کرتا ہے بعض ماری جاتی ہیں اور باقی اُڑ جاتی ہیں لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر ایک جگہ پر اکٹھی بیٹھ جاتی ہیں ۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کا کام نہیں کہ تم بھی اس قوم میں سے تھے جو تشتت اور پرا گندگی کا شکار ہو رہی تھی۔ تم قادیان میں بیٹھ گئے ۔ دشمن نے تم پر فائر کیا تم وہاں سے اُڑے اور ربوہ میں آ کر بیٹھ گئے ۔ مگر آخر غریبوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم