انوارالعلوم (جلد 21) — Page 341
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۱ دنیا کے معزز ترین انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں سے زیادہ ذلیل آدمی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا اور یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے دُور ہو جائے گا ۔ سے عبداللہ کا بیٹا مومن تھا وہ ایک سچا مسلمان تھا جب اُس نے اپنے باپ کی یہ بات سنی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا يَا رَسُولَ الله میرے باپ نے جو بات کہی ہے اُس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ یہی سزا اُسے دیں گے لیکن میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر کسی اور مسلمان کو آپ نے کہا اور اُس نے میرے باپ کو قتل کر دیا اور پھر کوئی کمزوری کا وقت مجھ پر آ گیا اور وہ مسلمان میرے سامنے آیا تو ممکن ہے میرے دل میں خیال آ جائے کہ یہ میرے باپ کا قاتل ہے اور میں جوش میں آ کر اُس پر حملہ کر بیٹھوں اور اس طرح بے ایمان ہو جاؤں ۔ يَا رَسُولَ الله میری درخواست یہ ہے کہ آپ مجھے ہی یہ حکم دیجئے کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کروں تا کہ کسی مسلمان کا کینہ میرے دل میں پیدا نہ ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ ہم تمہارے باپ کو قتل کریں ۔ اُس نے بات کی اور اپنے اندرونہ کو ظاہر کر دیا۔ ہے ہماری طرف سے اس پر کوئی گرفت نہیں ۔ اب بظاہر بات ختم ہوگئی اور وہ آئی گئی ہو گئی ۔ انصار اور مہاجر آپس میں پھر بغلگیر ہو گئے ۔ عبداللہ بن ابی بن سلول پھر ذلیل اور شرمندہ ہو کر اپنے خیمہ میں جا گھسا۔ پھر انصار اور مہاجرین میں بھائیوں بھائیوں کا سا نظارہ نظر آنے لگا ۔ پھر ان میں محبت اور پیار کی باتیں ہونے لگیں ، پھر لوگوں نے یہ نمونہ دیکھا کہ ایک بد بخت انسان نے نہایت ہی گندے الفاظ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے انتہائی فراخ دلی سے معاف فرما دیا ۔ پھر لشکر نے اپنا کام شروع کر دیا اور جب وہ اپنا کام پورا کر چکا تو مدینہ کی طرف واپسی شروع ہوگئی ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھول گئے کہ عبداللہ نے کیا کہا تھا ، عبد اللہ بھی بھول گیا کہ اس کمبخت نے کیا کہا تھا ، مہاجر بھول گئے کہ وہ انصار سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے تھے اور انصار بھی بھول گئے کہ وہ مہاجرین سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے تھے لیکن ایک دل تھا جس کی آگ بھڑک رہی تھی ، جس کے شعلے دبنے میں نہیں آتے تھے اور جو سر سے پاؤں تک جلا جا رہا تھا اس وجہ سے کہ اُس کے آقا اور اُس کے سردار کو