انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 320

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۲۰ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح مسلمان نمازیں پڑھنے لگ گئے ہیں یا سارے نہیں تو ان کا اکثر حصہ نمازیں پڑھنے لگ گیا ہے ۔ یوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی منافق تھے اور اب بھی ہو سکتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ فیصدی لوگوں کو نکال دو، دس فیصدی لوگوں کو نکال دو، پندرہ فیصدی لوگوں کو نکال دو اور پھر دیکھو کہ آیا باقی مسلمان باقاعدگی کے ساتھ نمازیں ادا کرتے ہیں؟ لیکن اگر مسلمانوں کا جائزہ لیتے وقت وہی بات ہو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیش آئی تھی تو پھر میں کیا کروں ۔ جب لوگ کی بستی پر عذاب نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا تو اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں یا بعض لوگوں کے عقیدہ اور تحقیقات کے مطابق اپنے بعض صالح اور برگزیدہ بندوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور لوظ کو اس کی خبر دے آؤ۔ راستہ میں اُنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی خبر دی کہ لوگ کی بستی پر ایسا عذاب نازل ہونے والا ہے ۔ جب حضرت ابرہیم علیہ السلام کو یہ خبر ملی تو بائبل میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سجدہ میں گر گئے اور اُنہوں نے کہا اے خدا! کیا تو لوٹ کی بستی کو اس لئے تباہ کر دے گا کہ اس میں کچھ بد معاش لوگ پائے جاتے ہیں؟ اے خدا ! کیا نیکو کار لوگوں کا تو خیال نہیں کرے گا اور ان کی خاطر اس عذاب کو ٹال نہیں دے گا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر الہام نازل کیا کہ اے ابراہیم ! یقینا اگر لوڈ کی بستی میں نیکو کار لوگوں کی کثرت ہو تو میں اس بستی کو کبھی تباہ نہیں کروں گا ۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا خدایا ! اگر اس میں نوے فیصدی نیک لوگ ہوں اور صرف دس فیصدی بد عمل ہوں تو کیا دس فیصدی کی وجہ سے تو نوے فیصدی لوگوں کو تباہ کر دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہر گز نہیں اگر نوے فیصدی نیک ہوں تب بھی میں اس بستی کو تباہ نہیں کروں گا۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ معلوم ہوتا ہے اس قدر نیک لوگ اس بستی میں موجود نہیں اور اُنہوں نے کہا خدایا ! اگر اس میں اسی فیصدی نیک ہوں اور بیس فیصدی بُرے لوگ ہوں تو کیا میں فیصدی کی خاطر تو اسی فیصدی کو تباہ کر دے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے پھر الہام نازل فرمایا کہ ہرگز نہیں اسی فیصدی نیک لوگ بھی اس میں موجود ہوں تو میں اس بستی کو کبھی تباہ نہیں کروں گا۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ اس میں اسی فیصدی بھی نیک لوگ نہیں اور اُنہوں نے کہا