انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 257

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۵۷ اسلام اور موجودہ مغربی نظریے ضروری ہوں یا جو عارضی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ہوں لیکن جہاں تک وہ امور ہیں جن میں مذہب کو اس بات کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہدایت کرے ان تمام امور کو قرآن کریم میں بیان کر دیا گیا ہے کسی کو بالتفصیل اور کسی کو بالا جمال ۔ دوم: فرماتا ہے اتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي دین کو کامل کرنے کے نتیجہ میں میں نے اپنا انعام تم پر مکمل کر دیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے سارے احکام کوئی نہ کوئی خوبی اور حکمت اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ اس کے احکام صرف حکم کے طور پر نہیں بلکہ ان میں انسانی فائدہ اور اس کی ترقی کو ملحوظ رکھا گیا ہے اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو اکمال دین کا نتیجہ اتمام نعمت نہیں ہو سکتا ۔ یہ نتیجہ تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب دین کے تمام احکام ہمارے لئے نعمت ہوں تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارا دین مکمل ہے اور چونکہ اس کا ہر حکم ہمارے فائدہ کے لئے ہے اس لئے دین کے مکمل ہونے کے ساتھ انعام بھی مکمل ہو گیا ہے۔ یہ اسلامی شریعت کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو اسے تمام شریعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ باقی شریعتوں کے احکام کسی حکمت اور فلسفہ کے ماتحت نہیں مگر اسلام کسی بات کا حکم نہیں دیتا اور کسی بات سے بنی نوع انسان کو نہیں روکتا لیکن اُسی صورت میں جب اُس پر عمل یا اُس سے اجتناب لوگوں کے لئے مفید ہو۔ اس ضمن میں حضور نے نماز کی حقیقت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور بتایا کہ ) جو شخص سچے دل سے نماز پڑھتا ہے وہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ سے کے مطابق ہر قسم کی بُرائیوں سے بچ جاتا ہے ۔ ساتھ ہی اسی طرح روزہ ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف کو صرف روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ سان فرمایا ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون کے روزے اس لئے رکھے گئے ہیں تا تم میں تقویٰ پیدا ہو ۔ غرض الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کو پورا کرنے کا سامان انہیں باہر سے لانا پڑے سارے احکام قرآن کریم میں بیان کر دیئے گئے ہیں اور وہ سارے احکام ایسے ہیں جو بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے ہیں۔ پس کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں کو کوئی ضرورت ہو اور اُس کو پورا کرنے کا سامان اُنہیں باہر سے لانا پڑے۔ اور کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلمان