انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 224

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲۴ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے میں کس طرح ادا کرتے ہیں۔ اس پر ہم دوسروں سے پوچھیں گے اور اس طرح ہمارے علم میں ترقی ہوگی ۔ بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن انسان کو بڑی عمر میں بھی اُن کی سمجھ نہیں آتی لیکن جب وہ ایک زبان میں گفتگو کرنا شروع کر دے تو ان پر عبور حاصل کر لیتا ہے۔ پس ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ پنجابی زبان چھوڑ دیں اور اُردو کو جو اب بے وطن ہو گئی ہے اپنا ئیں ۔ یہ بھی ایک بڑا مہاجر ہے جس طرح مہاجروں کو زمینیں مل رہی ہیں چاہیے کہ اسے بھی اپنے ملک میں جگہ دی جائے اور اسے اتنا رائج کر دیا جائے کہ آہستہ آہستہ یہ ہماری مادری زبان بن جائے۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جن کے خیال میں پنجابی زبان کو زندہ رکھنا ضروری ہے ۔ میرے نزدیک اُردو زبان کو ہی ہمیں اپنی زبان بنا لینا چاہیے اور اسے رواج دینا چاہیے ۔ ملک کے کناروں اور پہاڑوں پر کہیں کہیں پنجابی زبان باقی رہ جائے تو حرج نہیں ۔ اگر کسی کو پنجابی زبان سننے یا بولنے کا شوق ہوگا تو وہ وہاں جا کر سن لے گا یا بول لے گا۔ بس میری پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ تم اُردو زبان کو اپناؤ اور اس کو اتنا رائج کر دو کہ یہ تمہاری مادری زبان بن جائے اور تمہارا لہجہ اُردو دانوں کا سا ہو جائے ۔ دوسری چیز جس کے متعلق میں آپ لوگوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ علم کے بغیر کبھی صحیح عمل پیدا نہیں ہو سکتا ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمل کے بغیر بھی انسان حقیقی زندگی حاصل نہیں کر سکتا ۔ عالم بے عمل کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہوں ۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر علم نہ ہو اور پھر انسان کوئی عمل کرے تو وہ غلط قسم کا ہوگا اور اس کی مثال اُس ریچھ کی سی ہوگی جس سے کسی آدمی کی دوستی ہو گئی اور وہ اُسے مکھیاں اُڑانے کے لئے اپنی ماں کے پاس بٹھا گیا۔ وہ مکھیوں کو اُس کی ماں کے منہ سے اُڑاتا لیکن وہ پھر آ بیٹھتیں ۔ اُس نے خیال کیا کہ جو مکھی اڑتی نہیں اُسے مار ڈالنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر اُٹھایا اور مکھی پر دے مارا۔ وہ لکھی تو شاید مری یا نہ مری لیکن ماں مر گئی ۔ اسی طرح بے علم آدمی ایسی غلطیاں کر جاتا ہے کہ اُن کی اصلاح اور ازالہ مشکل ہوتا ہے۔ میں نو جوانوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اُن میں خصوصیت کے ساتھ کوئی ایسا آدمی نہیں ہونا چاہیے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہ جانتا ہو ۔ جس طرح ہر شخص وکیل تو نہیں بن سکتا لیکن ملک میں صحیح طور پر امن اُس وقت