انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 143

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۴۳ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر والے ہوں اور یہ مقام اسلام کی اشاعت کے لئے ، احمدیت کی ترقی کے لئے ، روحانیت کے غلبہ کے لئے ، خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اونچا کرنے کے لئے اور اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنے کے لئے بہت اہم اور اونچا اور صدر مقام ثابت ہو۔ پس آؤ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مقام کو ہمارے لئے با برکت کرے اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم منشائے ابراہیمی ، منشاء محمدی اور منشاء مسیح موعود کے مطابق اس مقام کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے ایک بہت بڑا مرکز بنائیں اور خدا تعالیٰ کے فضل ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائیں کہ ہم نے اس مقام کو اشاعت اسلام کے لئے مرکز قرار دے کر جوا را دے کئے ہیں وہ پورے ہو جائیں کیونکہ سچی بات یہی ہے کہ ہم نے جو ارادے کئے ہیں اُن کو پورا کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ۔ ( اس کے بعد حضور نے ان ہزار ہا مخلصین کے ساتھ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس مقدس اجتماع میں شریک ہونے کی توفیق بخشی تھی اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اُٹھا کر ایک لمبی دعا کی اور پھر فرمایا) اب میں سجدہ میں گر کر دعا کرتا ہوں کیونکہ مسجد دعا کے لئے ایک خاص مقام ہوتا ہے اگر جگہ نہ ہو تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھوں پر بھی سجدہ کر سکتے ہیں ۔ اور حضور کے ساتھ ہی یہ الفاظ کہتے ہی حضور سجدہ میں گر گئے اور مخلصین جو اس با برکت اجتماع میں شمولیت کیلئے دور و نزدیک سے تشریف لائے ہوئے تھے وہ بھی سر بسجو د ہو گئے اور رب العرش سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے متعلق آنسوؤں کی جھڑی اور آہ و بکا کے شور کے ساتھ دعائیں کی گئیں ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنّا، إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ آمین ۔) ( الفضل جلسہ سالا نہ نمبر ۱۹۶۵ء ) ابن ماجه كتاب الجهاد باب فضل الشهادة في سبيل الله + اسدالغابة جلد ۳ صفحه ۲۳۳ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ الصفت : ١٠٣ الصفت : ١٠٦ ابراهیم: ۳۸