انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 102

انوار العلوم جلد ۲۱ مانگ ۱۰۲ اللہ تعالی سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے عِلْمًا ، اسی طرح آپ ہمیشہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقیم کی بھی دعا کرتے رہے۔ گویا صرف ہم ہی نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ! تو میرے علم کو زیادہ کر اور مجھے صراط مستقیم دکھا۔ ایک عام شخص تو کہہ سکتا ہے کہ اے اللہ ! تو مجھے صراط مستقیم دکھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو کوئی کمزوری نہیں پائی جاتی کہ آپ خدا تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے خدا تو مجھے سیدھا رستہ دکھا۔ اس کے یہی معنی تھے کہ سیدھے رستے غیر محدود ہیں ۔ جس مقام عظیم پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فائز تھے اُس کے علاوہ اور رستے بھی تھے۔ اس لئے آپ کہتے تھے رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ۔ بلکہ میں تو میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی اتنی عظیم الشان ہے کہ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن آپ اب بھی اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا رہے ہونگے ۔ اور آپ کے مدارج اب بھی بڑھ رہے ہونگے کیونکہ خدا تعالیٰ کی حد بندی نہیں ہو سکتی ۔ انسان کتنا بھی بڑا ہو وہ بہر حال محدود ہے۔ وہ باوجود بلند مدارج حاصل کرنے کے دعا مانگتا چلا جاتا ہے تا حرکت کا سلسلہ بند نہ ہو بلکہ جاری رہے ۔ اگر روحانی ترقی کے رستے محدود ہوتے تو اس کے یہ معنی ہوتے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب روحانی ترقی بند ہو جائے گی اور ایک مقام ایسا آئے گا جہاں پہنچ کر ترقی کے رستے مسدود ہو جا ئیں گے حالا نہ یہ غلط ہے ۔ پس یہ قانون قدرت ہے کہ اگر کسی وقت ترقی نہ ہو تو تنزل شروع ہو جاتا ہے۔ پس ہمیں ہمیشہ اپنے اعمال پر غور کرتے رہنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا ہر دن پہلے دن کی نسبت زیادہ ترقی والا ہو ۔ ہمارا قدم پہلے کی نسبت آگے ہونا چاہئے ۔ ہماری عبادت اور ذکر الہی میں کوئی نہ کوئی ترقی ہونی چاہئے ۔ خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق پہلے کی نسبت زیادہ ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی انسان اس رنگ میں رنگین ہو جائے تو وہ ایسا برکت والا ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن جاتا ہے اُسے کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ لیکن ضروری ہے کہ عبادتوں اور ذکر الہی کے علاوہ انسان ظاہری طور پر بھی محنت کرے تا وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا جاذب بن سکے ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعاؤں کے ساتھ ظاہری تدابیر بھی اختیار کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صحابہؓ سے مصنوعی جنگیں