انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 100

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۰۰ اللہ تعالی سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے سامان میسر آ بھی جائیں تو پھر بھی یہ امید رکھنا کہ ہم ان کے ذریعہ ترقی کر جائیں گے غلطی ہے اس صورت میں ہم اپنے جھوٹا ہونے کی دلیل دیں گے۔ کسی کے دعوی کے جھوٹا ہونے کی دلیل تو اس کا مخالف دیتا ہے ۔ وہ خود ایسا مواد فراہم نہیں کرتا جس سے وہ جھوٹا ثابت ہو۔ لیکن ہمارا یہ فعل یقیناً اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا مخالف تو ہمیں جھوٹا کرنے کی کوشش میں ناکام رہا لیکن ہم نے اپنے جھوٹا ہونے کی خودا سے دلیل مہیا کر دی ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر مامورین کی جماعتیں مادیات کے ساتھ ترقی نہیں کیا کرتیں اور ہمارا یہ دعویٰ کہ ہم مادیات کے ساتھ ترقی کریں گے ہمارے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے تو پھر وہ کونسا ذریعہ ہے جس کو اختیار کر کے ہم ترقی کر سکتے ہیں جس کو اختیار کرنے کے بعد ہم بڑی سے بڑی قوموں کو بھی مغلوب کر سکتے ہیں ؟ وہ ذریعہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرنا ہے اگر ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر لیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مٹا نہیں سکتی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض تو میں مٹ جاتی ہیں اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خاتمہ ہو گیا لیکن وہ اپنے مٹ جانے کے بعد پھر ایسی ترقی کرتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم ہے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ بظاہر مٹ چکی تھی لیکن اپنے مٹ جانے کے بعد اُس نے کتنی عظیم الشان ترقی کی ۔ قریباً تین سو سال کے لمبے عرصہ کے بعد انہیں حکومتیں ملیں ۔ اب ۱۹۴۹ ء ہے۔ گویا سترہ سو سال اِن پر ترقی کے زمانہ کے گزر چکے ہیں ۔ بعض صوفیاء نے اس بات پر بحث کی ہے کہ عیسائیوں کی ترقی کا زمانہ زیادہ لمبا کیوں ہو گیا ہے ۔ ایک بزرگ نے ایک لطیفہ لکھا ہے اگر چہ وہ ذوقی ہے اُنہوں نے لکھا ہے کہ لفظ ضالین پر جو مد اور شد ڈالی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ عیسائیوں کو لمبی ترقی حاصل ہو گی چونکہ عیسائیوں کے لئے لمبی ترقی مقدر تھی اس لئے قرآن کریم میں عیسائیوں کیلئے لفظ (یعنی ضالين) استعمال کیا گیا ہے یہ تو ایک ذوقی بات ہے لیکن صاف ظاہر ہے کہ عیسائیوں کو لمبی ترقی محض اس لئے ملی کہ ان پر ایک لمبے عرصہ تک مظالم ہوئے۔ لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کا لمبا ہونا ا نہایت ہی خطرناک ہے اور وہ روحانیت کا فقدان ہے۔ روحانیت تو ایک دن میں آ جاتی ہے اس کے لئے زیادہ لمبا عرصہ درکار نہیں ۔ عیسائیوں میں روحانیت ۲۷۰ سال کے بعد نہیں آئی تھی