انوارالعلوم (جلد 21) — Page 75
انوار العلوم جلد ۲۱ ۷۵ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر خط و کتابت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں یہاں آنے کی اجازت دی جائے ۔ یہ پہلے فرینچ علاقہ سے روسی علاقہ میں آئے اور وہاں سے سوئٹزر لینڈ پہنچے پھر وہاں سے آہستہ آہستہ پاکستان پہنچے ۔ جہاں تک ان کے اخلاص کا تعلق ہے اس کا ایک چھوٹے سے واقعہ سے پتہ لگ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب مشرقی پنجاب میں فسادات ہوئے اور انہیں خبر پہنچی کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے تو ان کے متواتر خطوط آنے لگے اور انہوں نے بار بار سوئٹزر لینڈ کے مبلغ کو لکھا ( ہمارا جرمنی کے قریب ترین مشن سوئٹزر لینڈ کا ہے اور وہاں کے مبلغ انچارج سے ہی یہ خط و کتابت کرتے رہے ) کہ کسی نہ کسی طرح مجھے قادیان پہنچانے کا بندوبست کیا جائے تا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر اسلام کے لئے لڑوں اور قادیان کی حفاظت کروں ۔ یہ ایک نہایت ہی نیک جذبہ تھا جو ایک یوروپین اور خاص کر ایک جرمن کے دل میں پیدا ہوا ۔ انگلستان کو تو چھوڑ و کیونکہ اُس کے متعلق ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک ہندوستان پر حکومت کرنے کی وجہ سے ان کے اندر مسلمانوں کے متعلق ہمدردی کا جذبہ پایا جا سکتا ہے لیکن ایک جرمن کے متعلق خصوصاً اُن کی علمی فوقیت کی وجہ سے جو انہیں تمام ممالک پر حاصل ہے یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اُن کے اندر اسلام کی خدمت کے لئے اتنی تڑپ پائی جاتی ہو۔ ایک جرمن کے ان جذبات سے پتہ لگتا ہے کہ اُس کے اندر اسلام کی محبت اس قدر رچ چکی ہے کہ اُس کے اندر بیتابی پائی جاتی ہے کہ کسی طرح وہ اسلام کے مصائب میں شریک ہو سکے ۔ مسٹر کنزے معمولی انگریزی جانتے تھے لیکن بہر حال انگریزی میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ اب ان کا ارادہ ہے کہ پاکستان میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کریں اور چونکہ انہیں اُردو نہیں آتی اس لئے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ انہیں اُردو زبان سکھائی جائے تا یہ عام گفتگو سمجھ سکیں اور دینی تعلیم میں جلد از جلد ترقی کر سکیں ۔ چنانچہ اب یہ اردو زبان سیکھ رہے ہیں ۔ آج آپ لوگوں نے ان سے سورۃ فاتحہ سنی ہے لاہور میں یہ سورۃ فاتحہ زیادہ اچھی طرح پڑھ سکتے تھے لیکن سیالکوٹ چونکہ ان کے لئے ایک نئی جگہ ہے اس لئے یہاں یہ گھبرا گئے ہیں اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایک آیت کی آیت ہی چھوڑ گئے ہیں ۔ لاہور میں یہ سورۃ فاتحہ زیادہ اچھی