انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 64

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۴ دیبا چه تفسیر القرآن خدائے رحیم و کریم کی تعلیم نہیں ہو سکتی ۔ یقینا یہ تعلیم موسی کے بعد آنے والے سفاک یہودیوں کے دماغوں کا اختراع ہے اور موسی کی کتاب میں داخل کر کے اُس کو بھی گندہ کر دیا ہے ۔ بائبل کی خلاف عقل باتیں بائبل میں بعض ایسی باتیں ہیں جو بالکل خلاف عقل ہیں ۔ مثلاً : وو ۱ ۔ اخبار باب ۱۱ آیت ۳ میں لکھا ہے خرگوش جگالی کرتا ہے۔“ 66 ۲ ۔ اسی طرح گنتی باب ۲۲ آیت ۲۸ میں بلعام کی گدھی کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے بلعام سے باتیں کیں ۔ ۳۔ پیدائش باب ۴۶ آیت ۲۷ ، ۲۸ میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں آئے تھے تو ۷۰ تھے ، لیکن ۲۱۵ سال کے بعد یعنی موسی کے زمانہ میں ان کی تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ عورتوں اور بچوں کو نکال کر چھ لاکھ کے قریب پہنچ گئے ۔ گئے ۔ چنانچہ خروج باب ۱۲ آیت ۳۷ میں ۳۷ میں لکھا ہے :۔ اور بنی اسرائیل نے رعمیس سے ”’سکات تک پیادے سفر کیا۔ ان کے مرد سوالڑکوں کے چھ لاکھ کے قریب تھے۔ اگر مردوں کی تعداد کو ملحوظ رکھ کر عورتوں اور بچوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو کل تعداد ۲۵ لاکھ کے قریب پہنچ جاتی ہے مگر یہ سخت مبالغہ اور عقل کے خلاف بات ہے ۔ ۲۱۵ سال میں ۷۰ آدمیوں کا ۲۵ لاکھ ہو جانا بالکل عقل کے خلاف بات ہے اور واقعہ کے بھی خلاف ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی اور چالیس سال تک وہ جنگلوں میں پھرے تو کیا ۲۵ لاکھ آدمیوں کا روٹی کا انتظام چالیس پچاس سال تک ان جنگلوں میں ہو سکتا تھا ؟ بیشک بعض زمانوں کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے آسمان سے بیر اُتارے اور زمین میں ترنجبین پیدا کر دی لیکن بائبل کے بیان کے مطابق یہ خوراک سارے عرصے کے لئے مہیا نہیں ہوئی تھی ۔ پھر دوسرے عرصہ میں اتنے آدمیوں کے لئے خوراک کہاں سے لاتے تھے؟ پھر بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک چشمہ سے پانی پی لیتے تھے ۔ کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک ایک چشمہ سے ۲۵ لاکھ آدمی پانی سے سیراب ہو ہو۔ سکتا ہے۔ جن علاقوں سے وہ گزرے ان میں ندیاں نہیں ہیں ۔ کسی کسی جگہ پر چشمے ملتے ہیں اور چشمہ میں عام طور پر چند محد و دفٹ پانی ہوتا ہے کیا اس سے ۲۵ لاکھ آدمی سیراب ہو سکتے ہیں؟ ایسی خلاف عقل