انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 603

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۰۳ ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام لیکن افسوس کہ اس وقت ہم بھی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتے ۔اسے سن کر نہایت افسوس سے امریکن قونصل جنرل نے کہا ۔ ہاں ہمیں بھی اس بات کا بہت افسوس ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے گو احمد یہ جماعت کی اکثریت قادیان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے اور اب صرف چند سواحمدی قادیان میں رہ گئے ہیں لیکن قادیان پہلے سے بھی زیادہ دنیا کی توجہ کا مرکز ہو گیا ہے اور اس کی وجہ وہی قربانی اور شاندار نمونہ ہے جو قادیان کے احمدیوں نے پیش کیا اور آپ لوگ اس قربانی کی مثال کو زندہ رکھنے والے ہیں اور اس وجہ سے اس معاملہ میں سب سے زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ لیکن صرف کسی چیز کو زندہ رکھنا کافی نہیں ہوا کرتا اس چیز کو زیادہ سے زیادہ پھیلا نا اصل کام ہوتا ہے ۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس نور آسمانی کو اپنے دل میں زندہ رکھتے جو آسمان سے اس وقت نازل ہوا تھا تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوتا لیکن اتنا بڑا کام نہیں جواس صورت میں ہوا کہ آپ نے اس نور کو اپنے دل ہی میں زندہ نہیں رکھا بلکہ ہزاروں لاکھوں اور انوں کو بھی اس نور سے منور کر دیا ۔ صحابہ کرام نے اس نور کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھ کر ایک بہت بڑا نمونہ دکھایا لیکن ان کا یہ نمونہ اس سے بھی زیادہ شاندار تھا کہ انہوں نے نورِ محمدی کا ایک حصہ اپنے سینوں سے نکال کر لاکھوں اور کروڑوں دیگر انسانوں کے دلوں میں بھی بھر دیا۔ پس اے میرے عزیزو! آپ کی زندگی کا پہلا دور ختم ہوتا ہے اور نیا دور شروع کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پہلے دور کی مثال ایسی تھی جیسے چٹان پر ایک لیمپ روشن کیا جاتا ہے تا کہ وہ قریب آنے والے جہازوں کو ہوشیار کرتا رہے اور تباہی سے بچائے لیکن نئے دور کی مثال اس سورج کی سی ہے جس کے گرد دنیا گھومتی ہے اور جو باری باری ساری دنیا کو روشن کر دیتا ہے ۔ بیشک آپ کی تعداد قادیان میں تین سو تیرہ ہے لیکن آپ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان میں خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام کو شروع فرمایا تھا تو اس وقت قادیان میں احمدیوں کی تعداد صرف دو تین تھی ۔ تین سو آدمی یقیناً تین سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کے وقت قادیان کی آبادی گیارہ سو تھی ۔ گیارہ سو اور تین کی نسبت ۱/۳۶۶ کی ہوتی ہے ۔ اگر اس وقت قادیان کی آبادی بارہ ہزار سمجھی جائے تو موجودہ احمد یہ آبادی کی نسبت باقی قادیان کے لوگوں سے