انوارالعلوم (جلد 20) — Page 579
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷۹ احمدیت کا پیغام سمجھی ۔ افغانستان میں ملانوں سے ڈر کر بعض دفعہ بادشاہوں نے سختیاں کیں لیکن پرائیویٹ ملاقاتوں میں اپنی معذوریاں بھی ظاہر کرتے رہے اور اظہار ندامت بھی کرتے رہے ۔اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک میں عوام الناس نے مخالفت کی ۔ علماء نے مخالفت کی اور ان سے ڈر کر حکومت نے بھی بعض دفعہ روکیں ڈالیں ۔ لیکن کسی حکومت نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ تحریک ہماری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لئے قائم ہوئی ہے اور یہ ان کا خیال درست تھا۔ احمدیت کو سیاست سے کوئی غرض نہیں ۔ احمدیت صرف اس غرض کے لئے کھڑی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی دینی حالت کو درست کرے اور انہیں ایک رشتہ میں پروئے تا کہ وہ مل کر اسلام کے دشمنوں کا اخلاقی اور روحانی ہتھیاروں سے مقابلہ کر سکیں ۔ اسی بات کو سمجھتے ہوئے امریکہ میں احمدی مبلغ گئے ۔ جس حد تک وہ ایشیائیوں کی مخالفت کرتے ہیں انہوں نے احمدی مبلغوں کی مخالفت کی۔ لیکن جہاں تک مذہبی تحریک کا سوال تھا اس کے مدنظر انہوں نے مخالفت نہیں کی۔ ڈچ حکومت نے انڈو نیشیا میں بھی اسی طریق سے کام لیا ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سیاست میں یہ ہمارے ساتھ نہیں ٹکراتے تو گو انہوں نے مخفی نگرانیاں بھی کیں، بے اعتنائیاں بھی کیں مگر کھلے بندوں احمدیت سے ٹکرانے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اس رویہ میں وہ بالکل حق بجانب تھے۔ بہر حال ہم ان کے مذہب کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اس لئے ہم اُن سے کسی ہمدردی کے امیدوار نہیں تھے مگر ہم اُن کی سیاست سے بھی براہ راست نہیں ٹکراتے تھے اس لئے ان کا بھی یہ کوئی حق نہیں تھا کہ ہم سے براہِ راست ٹکراتے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جماعت احمد یہ قریباً ہر ملک میں قائم ہے ۔ ہندوستان میں بھی ۔ افغانستان میں بھی ۔ ایران میں بھی ۔ عراق میں بھی ۔ شام میں بھی ۔ فلسطین میں بھی ۔ مصر میں بھی ۔ اٹلی میں بھی ۔ سوئٹزر لینڈ میں بھی ۔ جرمنی میں بھی ۔ انگلینڈ میں بھی ۔ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں بھی ۔ انڈونیشیا ، ملایا ، ایسٹ اور ویسٹ افریقہ، ایسے سینیا، ارجنٹائن غرض ہر ملک میں تھوڑی یا بہت جماعت موجود ہے اور ان ممالک کے اصلی شہریوں میں سے جماعت موجود ہے۔ یہ نہیں کہ وہاں کے بعض ہندوستانی احمدی ہو گئے ہوں اور وہ ایسے مخلص لوگ ہیں کہ اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے قربان کر رہے ہیں ۔ ایک انگریز لیفٹیننٹ اپنی زندگی وقف کر کے اس وقت مبلغ کے طور پر انگلستان میں کام کر رہا ہے ۔