انوارالعلوم (جلد 20) — Page 555
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۵۵ مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب جماعت کو حاصل نہیں ۔ ہر شخص اقرار کرے گا کہ اس سے درجنوں گنے زیادہ طاقت اس وقت جماعت کو حاصل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسٹر جناح کی وفات کے بعد اگر وہ مسلمان جو واقعہ میں ان سے محبت رکھتے تھے اور ان کے کام کی قدر کو پہچانتے تھے سچے دل سے یہ عہد کر لیں کہ جو منزل پاکستان کی انہوں نے تجویز کی تھی ، وہ اس سے بھی آگے اسے لے جانے کی کوشش کریں گے اور اس عہد کے ساتھ ساتھ وہ پوری تن دہی سے اس کو نباہنے کی کوشش بھی کریں تو یقیناً پاکستان روز بروز ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا کی مضبوط ترین طاقتوں میں سے ہو جائے گا۔ حیدر آباد کے معاملہ کے متعلق بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان حوصلہ سے کام لیں تو حیدر آباد کا مسئلہ کوئی نا قابل تلافی مصیبت نہیں ۔ حق تو یہ ہے کہ حیدر آباد اپنے حالات کے لحاظ سے انڈین یونین میں ہی شامل ہونا چاہئے تھا جس طرح کہ کشمیر اپنے حالات کے لحاظ سے پاکستان میں ہی شامل ہونا چاہئے ۔ میں تو شروع دن سے مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں اور میرے نزدیک اگر حیدر آباد اور کشمیر کے مسئلہ کو اکٹھا رکھ کر حل کیا جاتا تو شاید اُلجھنیں پیدا ہی نہ ہو تیں لیکن بعض دفعہ لیڈ ر عوام الناس کے شدید جذبات سے اتنے مرعوب ہوتے ہیں کہ وہ وقت پر صحیح رستہ اختیار ہی نہیں کر سکتے ۔ حیدرآباد کی پرانی تاریخ بتارہی ہے کہ حیدر آباد کے نظام کبھی بھی لڑائی میں اچھے ثابت نہیں ہوئے ۔ چونکہ میرے پر دادا اور نظام الملک کو ایک ہی سال میں خطاب اور عہدہ ملا تھا ، اس لئے مجھے اس خاندان کی تاریخ کے ساتھ کچھ دلچسپی رہی ہے۔ ۱۷۰۷ء میں ہی ان کو خطاب ملا ہے اور ۰۷ ۱۷ء میں ہی میرے پر دادا مرزا فیض محمد خاں صاحب کو خطاب ملا تھا۔ ان کو نظام الملک اور ہمارے پر دادا کو عضدالدولہ۔ اِس وقت میرے پاس کا غذات نہیں ہیں ۔ جہاں تک عہدے کا سوال ہے، غالباً نظام الملک کو پہلے پانچ ہزاری کا عہدہ ملا تھا لیکن مرزا فیض محمد صاحب کو ہفت ہزاری کا عہدہ ملا تھا۔ اُس وقت نظام الملک با وجود حیدر آباد دکن میں شورش کے دلی میں بیٹھے رہے اور تب دکن گئے تھے جب دکن کے فسادات مٹ گئے تھے ۔ سلطان حیدرالدین کی جنگوں میں بھی حیدرآباد نے کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھایا تھا۔ مرہٹوں کی جنگوں میں بھی اس کا رویہ اچھا نہیں تھا ۔ انگریزوں کے ہندوستان میں قدم جمنے میں بھی حیدر آباد کی حکومت کا بہت کچھ دخل تھا مگر جہاں بہادری کے