انوارالعلوم (جلد 20) — Page 498
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹۸ دیبا چه تفسیر القرآن نام ہے طبعی جذبات کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا ۔ پس طبعی جذبات کو ماردینا یا حد سے زیادہ اُن میں منہمک ہو جانا یہ اخلاقی گناہ ہوتا ہے جوط ماہ ہوتا ہے جو طبعی جذبات کو مارنا چاہتا ہے وہ قانونِ قدرت کا مقابلہ کرتا ہے ۔ جو اُن کے پورا کرنے میں منہمک ہو جاتا ہے وہ اپنی روح کو بھول جاتا ہے اور مذہب کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہ دونوں باتیں خطر ناک ہیں۔ تم قانون قدرت کو بھی نہیں کچل سکتے اور تم قانون شریعت کو بھی نہیں کچل سکتے ۔ اسی اصل کے ماتحت قرآن کریم فرماتا ہے کہ دنیا میں تمام چیزیں حلال ہیں کیونکہ وہ انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ ہاں صرف اُس صورت اور اُس شکل میں اُن کے استعمال پر حد بندی لگائی جاتی ہے جس صورت اور جس شکل میں وہ انسان کے لئے مضر ہو جاتی ہیں ۔ اس قانون کے ماتحت اسلام کے رو سے شادی نہ کرنا نیکی نہیں گناہ ہے کھانے پینے اور پہننے کے متعلق طیب چیزوں کا استعمال نہ کرنا نیکی نہیں گناہ ہے، کیونکہ اس میں قانون قدرت کی ہتک اور اس کا مقابلہ ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کی ناشکری ہے۔ لیکن انہی چیزوں میں پڑ جانا اور ان کے استعمال میں غلو اور اسراف سے کام لینا یہ بھی گناہ ہے کیونکہ اس طرح انسان اپنی روح کو بھول جاتا ہے اور اصل مقصد انسانی زندگی کا روح کو کامل کرنا ہی ہے۔ جس طرح وہ شخص گنہگار ہے جو کام ہی کرتا رہتا ہے اور کھانا نہیں کھاتا کیونکہ وہ مر جائے گا اور اس کا کام مکمل نہیں ہوگا ۔ اسی طرح وہ شخص بھی گنہگار ہے جو کھانا ہی کھا تار رہے رہتا ہے اور کام نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ شخص ذرائع کے پیچھے پڑ جاتا ہے اور مقصود کو بھول جاتا ہے۔ بغیر ذرائع کے مہیا کرنے کے مقصد حاصل نہیں ہوتا اور بغیر صحیح مقصد کو پیش نظر رکھنے کے صحیح ذرائع مہیا نہیں کئے جا سکتے ۔ قانون تمدن میں تنظیم اور یکجہتی قانون تمدن میں تنظیم اور یک جہتی پیدا کرنے ۔ کے لئے قرآن کریم نے مندرجہ ذیل اصول بیان کئے پیدا کرنے کے لئے اُصول ہیں۔ (اول) اصل مالک خدا تعالیٰ ہے اور سب ) چیزیں اس کی ہیں ۔ (۲) اس نے یہ سب چیزیں بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے انسان کے اختیار میں دی ہیں ۔