انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 443

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴٣ دیبا چه تفسیر القرآن سے تعبیر کیا جاتا ہے اِس لئے کہ تاریکی کے زمانہ پر رات ہی اچھی طرح دلالت کرتی ہے بہر حال اس جگہ یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ دس سال متواتر سخت ظلموں کے گزاریں گے چنانچہ دیکھ لو اس پیشگوئی کے بعد متواتر دس سال مسلمانوں پر ظلم ہوتے رہے۔ مکہ والوں کی بدلی ہوئی نگاہوں سے محمد رسول الله اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو معلوم کر سکتے تھے کہ مکہ والے مجھ پر ظلم کریں ۔ گے مگر کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ آپ اُن کی شکلوں سے یہ بھی معلوم کر سکتے تھے کہ ظلموں کا زمانہ دس سال تک لمبا چلا جائے گا ؟ کیوں نہ آپ نے پانچ سال کہا ، کیوں نہ آپ نے آٹھ سال کہا، کیوں نہ ، کیوں نہ آپ نے بارہ سال کہا، کیوں نہ آپ نے تیرہ سال کہا ؟ آپ کے الہام میں دس سال کے الفاظ آئے اور اس الہام کے بعد آپ دس سال ہی مکہ میں رہے اور تکلیفیں اُٹھاتے رہے۔ دس سال کے بعد طلوع آفتاب ہوا اور اس مصیبت کے علاقہ سے آپ کو ہجرت کرنی پڑی اور مدینہ میں خدا نے آپ کی ترقی کے سامان پیدا کر دیئے اور خدا کی مدد کا سورج چڑھ آیا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ دس سال کی میعاد بھی یونہی اپنے طور پر پیش کر دی گئی تھی ۔ مگر کیا یہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں تھا کہ دس سال کے بعد ایک شہر کے لوگوں کو مسلمان بنالیں اور پھر ہجرت کر کے اُس میں چلے جائیں ؟ کیا مدینہ کے لوگوں کو مسلمان بنانا آپ کے اختیار میں تھا ؟ پھر کیا یہ بات آپ کے اختیار میں تھی کہ آپ مکہ سے نکل کر سلامتی سے مدینہ پہنچ جائیں؟ مگر یہ سورۃ یہی نہیں بتاتی بلکہ اس میں آگے چل کر یہ بھی بتایا گیا ہے واليل إذا يشر ۵۴۸ دس سال کی تکلیف را یک طلوع فجر ہوگا، مگر اس کے بعد بھی ظلمت پوری طرح دور نہ ہوگی بلکہ اس کے بعد بھی رات آئے گی ۔ مگر وہ ایک ہی رات آکر گزر جائے گی۔ پھر اس کے بعد کوئی رات نہیں آئے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ہجرت کے ایک سال بعد بدر کی جنگ ہوئی اور بدر کی جنگ نے جیسا کہ خود بائبل نے بھی تسلیم کیا ہے اور جیسا کہ میں اُو پر لکھ آیا ہوں قیدار کی ساری شوکت تباہ کر کے رکھ دی۔ اگرچہ بعد میں بھی لڑائیاں ہوئیں اور بڑی بڑی ہوئیں مگر بدر کی جنگ نے مسلمانوں کی ایک آزاد اور با اختیار حکومت قائم کر دی اور دشمن کے چوٹی کے آدمی تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے ۔ (۴) پھر مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی تھی کہ ان الَّذِي فَرَضَ