انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 415

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱۵ دیبا چه تفسیر القرآن صرف اس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو ۔ لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن امور کے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہو چکی ہوتی تھی اُن میں آپ تو رات کی تعلیم پر عمل کر لیتے تھے۔ تورات کے حکم کے مطابق زانی کے لئے سنگساری کا حکم ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی اُس شخص کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا۔ جب لوگ اُس پر پتھر پھینکنے لگے تو اُس نے بھاگنا چاہا، لیکن لوگوں نے دوڑ کر اُس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اُسے قتل کر دیا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اس کو نا پسند فرمایا ۔ آپ نے فرمایا اُس کو سزا اُس کے اقرار کے مطابق دی گئی ۔ جب وہ بھاگا تھا تو اُس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لئے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اُس کے بعد اُس کو سنگسار کرتے اُس کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ ۵۰۸ به آپ ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر پر ہونا چاہئے ۔ ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہ گئے ہوئے تھے راستہ میں آ میں ایک مشرک اُنہیں ایسا ملا جو اِدھر اُدھر جنگل میں چھپا پھرتا تھا اور جب کبھی اُسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اُس پر حملہ کر کے وہ اُسے مار ڈالتا۔ اُسامہ بن زید نے اس کا تعاقب کیا اور ایک موقع پر جا کر اُسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لئے تلوار اُٹھائی ۔ جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آ گیا ہوں تو اُس نے کہا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر اُسامہ نے اُس کے اس قول کی پرواہ نہ کی اور اُسے مار ڈالا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لڑائی کی خبر دینے کے لئے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اللہ صلی اللہ اُس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ وا رتے یہ واقعہ بھی بیان کیا ۔ اس پر رسول الله علیہ وسلم نے اُسامہ کو بُلوایا اور اُن سے سے پوچھا کہ کیا تم نے اُس آدمی کو مار دیا تھا ؟ اُنہوں نے کہا ہاں ۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لا إِلهَ إِلَّا الله تمہارے خلاف گواہی دے گا ۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اُس شخص نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا ؟ گو وہ قاتل تھا مگر تو بہ کر چکا تھا ۔ حضرت اُساء اتھا ۔ حضرت اسامہ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کر رہا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی