انوارالعلوم (جلد 20) — Page 29
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹ دیباچه تفسیر القرآن ایک ہی ہے۔ اسرائیلیوں ، ہندوؤں ، چینیوں اور ایرانیوں کا خدا عربوں ، افغانوں ، یورپینوں، منگولیوں اور سامی نسل کے لوگوں کے خدا سے کوئی مختلف خدا نہیں ۔ اس دنیا میں ایک قانون جاری ہے۔ آسمان سے پاتال تک ایک ہی نظام کی کڑیاں ہمیں نظر آتی ہیں ۔ در حقیقت سائنس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ تمام طبیعاتی اور میکینکل تغیرات ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور یا تو بقول مادی علماء کے یہ ساری کائنات ایک قسم کی حرکت کا نتیجہ ہے اور یا پھر اس ساری کا ئنات کو بنانے والا ایک ہی ہاتھ ہے۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھنے کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسرائیلیوں کا خدا کون ہے اور عربوں کا کا خدا کون ہے اور ہندوؤں کا خدا کون ہے؟ اور اگر خدا ایک ہے تو پھر یہ مختلف مذاہب کیوں پیدا ہوئے؟ کیا وہ مذاہب صرف بنی نوع انسان کی دماغی اختراع سے تھے اس لئے ہر قوم نے اپنا اپنا خدا تجویز کر لیا ؟ اگر نہیں تو پھر اس اختلاف کی وجہ کیا تھی ؟ اور کیا پھر اس اختلاف کا ہمیشہ کے لئے جاری رہنا دنیا کے لئے مفید ہو سکتا تھا ؟ مختلف ادیان کے انسانی دماغ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا یہ مذاہب بنی نوع انسان کی دماغی اختراع کا کی اختراع نہ ہونے کی نہ ہونے کی وجوہ نتیجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں او ہرگز نہیں اور اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں :۔ یہ اور جو مذاہب دنیا میں قائم ہو گئے ہیں جب ہم ان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو مندرجہ ذیل امور ہمیں نظر آتے ہیں ۔ ا۔ تمام مذاہب کے بانی دنیوی طور پر کمزور اور نادار قسم کے آدمی تھے اور کوئی طاقت ان کو حاصل نہ تھی مگر باوجود اس کے انہوں نے دنیا کے چھوٹے بڑوں کو مخاطب کیا اور وہ اور ان کے اتباع نہایت ادنیٰ حالت سے نکل کر اعلیٰ حالت تک پہنچ گئے ۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ کوئی طاقتور ہستی ان کے پیچھے کام کر رہی تھی ۔ یا کیزہ زندگی ۲۔ تمام کے تمام بانیان مذاہب ایسے ہیں کہ ان کی دعوئی سے پہلے کی زندگی زندگی ان کے دشمنوں کے نزدیک بھی پاک تھی اب یہ کیونکر خیال کیا جا