انوارالعلوم (جلد 20) — Page 390
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹۰ دیبا چه تفسیر القرآن کے گھر گئے اور فرمایا کیا تہجد پڑھا کرتے ہو؟ (یعنی وہ نماز جو آدھی رات کے قریب اُٹھ کر پڑھی جاتی ہے ) حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت کسی وقت ہماری آنکھ بند رہتی ہے تو پھر تہجد رہ جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا تہجد پڑھا کرو۔ اور اُٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے اور راستہ میں بار بار کہتے جاتے وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً ۲۴۳ یہ قرآن کریم کی ایک آیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اکثر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے گھبراتا ہے اور مختلف قسم کی دلیلیں دے کر اپنے قصور پر پردہ ڈالتا ہے ۔ مطلب یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ یہ کہتے کہ ہم سے کبھی کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے اُنہوں نے یہ کیوں کہا کہ جب خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ ہم نہ جاگیں تو ہم سوئے رہتے ہیں اور اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا۔ لیکن باوجود اللہ تعالیٰ کی اس قدر محبت رکھنے کے آپ نے کے آپ تصنع کی عبادت اور کہانت سے سخت نفرت کرتے تھے ۔ آپ کا اصول یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں انسان کے اندر پیدا کی ہیں اُن کا صحیح طور پر استعمال کرنا ہی اصل عبادت ہے ۔ آنکھوں کی موجودگی میں آنکھوں کو بند کر دینا یا اُن کو نکلوا دینا عبادت نہیں بلکہ گستاخی ہے ہاں اُن کا بد استعمال کرنا گناہ ہے۔ کانوں کو کسی آپریشن کے ذریعے سے شنوائی سے محروم کر دینا خدا تعالیٰ کی گستاخی ہے۔ ہاں لوگوں کی غیبتیں اور چغلیاں سننا گناہ ہے ۔ کھانے کو ترک کر دینا خودکشی اور خدا تعالی کی گستاخی ہے ہاں کھانے پینے میں مشغول رہنا اور ناجائز اور ناپسندیدہ چیزوں کو کھانا روں کو کھانا گناہ ہے۔ یہ ایک عظیم الشان نکتہ تھا۔ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جسے آپ سے پہلے اور کسی نبی نے پیش نہیں کیا ۔ اخلاق فاضلہ نام ہے طبعی قومی کے صحیح استعمال کا طبعی قوی کو مار دینا حماقت ہے، ان کونا کو نا جائز کاموں میں لگا دینا بدکاری ہے، ان کا صحیح استعمال اصل نیکی ہے یہ یہ خلاصہ ہے رسوا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اور یہ خلاصہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اور آپ کے اعمال کا ۔ حضرت عائشہ آپ کی نسبت فرماتی ہیں مَا خُيْرُ رَسُولُ اللَّهِ اللهِ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ اَيْسَرَ هُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ۴۴۴ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی ایسا موقع پیش نہیں آیا کہ آپ کے سامنے دو راستے کھلے