انوارالعلوم (جلد 20) — Page 387
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸۷ دیبا چه تفسیر القرآن آپ تو اپنے عمل کے زور سے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر لیں گے تو آپ نے فرمایا نہیں ! نہیں !! میں بھی خدا کے احسان سے ہی بخشا جاؤں گا ۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ بیان ف فرماتے ہیں میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کوئی شخص اپنے عملوں سے جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ میں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! کیا آپ بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل اخل نہ نہیں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ہاں خدا کا فضل اور اُس کی رحمت مجھے ڈھانک لے تو یہی ایک صورت ہے ۴۳۴ پھر آپ نے فرمایا اپنے کاموں میں نیکی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنی موت کی خواہش نہ کیا کرے۔ کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو زندہ رہ کر اپنی نیکیوں میں اور بھی بڑھ جائے گا اور اگر بد ہے تو زندہ رہ کر اپنے گناہوں سے تو بہ کرنے کی توفیق مل جائے گی ۔ ۴۳۵ خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ حالت تھی کہ جب ایک وقفہ کے بعد بادل آتے تو آپ اپنی زبان پر بارش کا قطرہ لے لیتے اور فرماتے ۔ دیکھو! میرے میرے رب کی تازہ نعمت ! ۴۳۶ جب مجلس میں بیٹھتے تو استغفار کرتے رہتے اور یوں بھی اکثر استغفار کرتے تا کہ آپ کی اُمت اور آپ کے ساتھ تعلق رکھنے والے خدا تعالیٰ کے غضب سے بچے رہیں اور اُس کی بخشش کے مستحق ہو جائیں ۴۳۷ ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی یاد کو تازہ رکھتے ۔ چنانچہ جب آپ سوتے تو یہ کہتے ہوئے سوتے بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْى - اے خدا تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں مروں اور تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں اُٹھوں ۔ اور جب آپ صبح اُٹھتے تو فرماتے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَا تَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ - ۴۳۸ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں جس نے مرنے کے بعد ہم کو زندہ کیا اور پھر ہم اپنے ربّ کے سامنے جانے والے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے قرب کی اتنی خواہش تھی کہ ہمیشہ آپ دعا کرتے تھے اللَّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِی نُورًا وَّ فِي بَصَرِي نُورًا وَ فِي سَمْعِي نُورًا وَّعَنْ يَمِينِي نُورًا وَّعَنْ يَسَارِكُ نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَ آمَامِي نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا ۲۳۹ یعنی اے میرے رب ! میرے دل میں بھی اپنا نور بھر دے اور میری آنکھوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے